پی پی ایچ آئی کی جانب سے ڈاکٹروں کو تنگ کرنا قابل مذمت ہے، ینگ ڈاکٹرز
کوئٹہ (آن لائن) پی پی ایچ آئی بلوچستان کی جانب سے ڈی ایس ایم کے عہدے پر تعینات ڈاکٹر کو مختلف ہتھکنڈوں سے تنگ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمّت کرتے ہیں۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے بارہا پی پی ایچ آئی کی انتظامی اسامیوں پر نان ڈاکٹرز اور نان ٹیکنیکل افراد کی تعیناتی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ پی پی ایچ آئی کے تمام انتظامی آسامیوں پر ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے مگر ایسا لگتا ہے کہ اعلیٰ حکام اس سنگین مسئلے میں بالکل سنجیدگی نہیں دکھا رہے۔پی پی ایچ آئی سی ای او جو غیر قانونی طور پر اس منصب پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں ان کو خبردار کرتے ہیں کہ ڈی ایس ایم کے عہدے پر تعینات ڈاکٹر کو اپنی کرپشن اور بدعنوانی کے غرض سے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے تنگ کرنے سے باز آجائیں اور سیکرٹری صحت اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کرتے کہ پی پی ایچ آئی کی انتظامی اسامیوں پر موجود نان ڈاکٹرز اور نان ٹیکنیکل افراد ڈاکٹروں کو اپنی کرپشن کیلئے مختلف ہتھکنڈوں سے تنگ کرتے ہیں لہذا ان تمام انتظامی عہدوں پر ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے۔حکومت وقت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ محکمہ صحت کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے وہ تمام نان ٹیکنیکل افراد جنہوں نے غیر قانونی طور پر پی پی ایچ آئی، ہیلتھ کارڈ, ایم ای آر سی، ایمرجینسی آپریشنل سیل برائے پولیو سمیت دیگر ٹیکنیکل پروگرامز پر قبضہ جمایا ہوا ہے ان کو فارغ کرکے قانونی تقاضے پورا کرتے ہوئے ان تمام ٹیکنیکل پروگرام کے انتظامی امور ڈاکٹروں کے حوالے کریں، حکومت نے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو ڈاکٹروں کی دیگر تنظیموں کو اعتماد میں لے کر صوبے بھر میں احتجاج کی کال دیں گے۔


