اسٹبلشمنٹ نے ہمیشہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاست میں بدترین مداخلت جاری رکھی ہے،پشتونخوامیپ

کوئٹہ(یو این اے )پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے شریک چیئرمین مختارخان یوسفزئی اور سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا نے اپنے مشترکہ بیان میں نگران وزیراعظم کا سیاست میں فوج کے کردار جاری رہنے اور تحریک انصاف کو سیاست سے بےدخل کرنے کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم سمیت اسٹبلشمنٹ کے دیگر کاسہ لیسوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ اس وقت ملک میں سیاسی، معاشی، اقتصادی، آئینی، قانونی اور ثقافتی بحرانوں کا بنیادی سبب اس ملک پر بالواسطہ یا بلا واسطہ امرانہ قوتوں اور اسکے پروردہ قوتوں کی حکمرانی ہے جنہوں نے ملک کو دولخت کرنے کے ساتھ مہنگائی، بیروزگاری، غربت، دہشتگردی، بیرونی اور اندرونی قرضوں کی دلدل میں پھنسا کر تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انکو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ اسٹبلشمنٹ نے ہمیشہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاست میں بدترین مداخلت جاری رکھی ہے جسکی وجہ سے ملک کے عوام کی نظروں میں انکی عزت اور وقار ختم ہو کر رہ گئی ہے اور عوام اپنی نفرت اور غصے کا اظہار وقتا فوقتا انکے خلاف مختلف نعرے بلند کرکے کرتے رہتے ہیں اور دنیا بھر کے ملکوں میں اپنے ہی سیکورٹی اداروں کے خلاف عوام کا اس طرح سے بیزاری، بیگانگی اور نفرت کے اظہار کی مثالیں شاید کہیں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی قیادت پر قدغن لگانا، مائنس کرنے کے فارمولے پیش کرنا، سیاسی قیادت کو الیکشن سے دور رکھنا نہ تو اسٹبلشمنٹ اور نہ ہی نگران حکومت کا مینڈیٹ ہے بلکہ یہ صرف اور صرف عوام کا حق ہے کہ وہ صاف اور شفاف انتخابات کے ذریعے کس کو قبول اور کس کو رد کرتے ہیں لہذا ملک کو مزید تجربہ گاہ بنانے سے اجتناب کیا جائے۔جبکہ ملک کے سب سے مقدس دستاویز ملکی آئین کی پابندی ملک کے ہر ادارے پر لازم ہے اور تمام ملکی اداروں نے ملکی آئین کے تحت اپنی ذمہ داریاں سر انجام دینے ہونگے آئین کے ماورا کسی بھی ادارے کی اختیارات اور اقدامات ملک کے اقوام و عوام کو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور ملکی آئین کے مروج اصولوں کی خلاف ورزی ملک میں نئے بحرانوں کا باعث ہوگی۔ انہوں نے سابق وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کو شرمناک قرار دیتے کہا کہ اس سے پہلے بھی عوام اور حقیقی سیاسی جمہوری قوتوں کو بخوبی اندازہ تھا کہ وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور پی ڈی ایم کا اپنے جمہوری بیانیے کو چھوڑ کو اسٹبلشمنٹ کی ایما پر عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت گرانا اور حکومت قبول کرنا اس سازش کی کڑی تھی جسکو شہباز شریف کے ذریعے عملی جامہ پہنایا گیا اور اس سازش میں پی ڈی ایم میں شامل پارٹیوں نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ ہمیں اپنے غیور جمہوری عوام پر پورا اعتماد اور یقین ہے کہ وہ پی ڈی ایم پارٹیوں کو غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ سازباز اور عوامی مفادات کے خلاف سودا کرنے پر انکا احتساب ضرور کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں