کم آبادی والے بلوچ علاقوں کے برعکس گنجان آباد پشتونوں علاقوں میں حلقہ بندیاں غیر آئینی ہیں، پشتون رہنما
کوئٹہ(یو این اے )صوبے کے پشتون جمہوری، ترقی پسند اور قوم دوست سیاسی پارٹیوں کا اجلاس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کے زیر صدارت کوئٹہ میں ملی شہید کے رہائش گاہ پرمنعقد ہوا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی ، صوبائی جنرل سیکرٹری محبت کاکا ،پشتونخوامیپ کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا ،صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی سیکرٹری فقیر خوشحال کاسی ،نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان اور صوبائی ترجمان انجینئر ایمل خان ناصر اور پشتونخوا میپ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز رحمت اللہ صابر ،عبدالرزاق خان بڑیچ اور علی محمد ترین نے شرکت کی۔اجلاس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبے میں مجوزہ حلقہ بندیوں پر تفصیل سے غور و خوض کیا گیا اجلاس نے الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبے میں مشتہر کردہ مجوزہ حلقہ بندیوں کو ناانصافی اور پشتون دشمنی پر مبنی قرار دیتے اسے یکسر مسترد کردیا گیا اور کہا گیا کہ صوبے کے پشتون علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کے اپنے وضع کردہ قوانین کی صریحا خلاف ورزی کی بنیاد پر کی گئی ہیں جس کی واضح مثال چمن کے صوبائی اسمبلی کے ایک سیٹ کو 466000 آبادی پر جبکہ دوسری جانب ضلع آواران کو 178000 کی آبادی پرمشتمل صوبائی اسمبلی کا حلقہ بنایا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس ضلع موسی ٰخیل کی آبادی 182000 ہونے کے باوجود اسمبلی کی نشست سے محروم رکھا گیا ہے اور اسی طرح پشتون اضلاع کےدیگر حلقوں کی تشکیل کو بھی الیکشن کمیشن کے قوانین اور انصاف کے تقاضوں کے بر خلاف قرار دیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ ناانصافیوں اور قوانین کی پامالی کے خلاف عدالتی اور جمہوری راہ اپنانے کے ساتھ ساتھ احتجاجی تحریک بھی چلائی جائیگی اور اِن پشتون دشمن حلقہ بندیوں ، بدترین مہنگائی و بے روزگاری ،ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پر پابندیوں ،دہشت گردی کے حالیہ واقعات ،ایف سی کی جانب سے بھتہ خوری ،بجلی کے ناروا بلوں، اور افغان کڈوال عوام کے خلاف کاروائیوں کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔جس کے تحت چمن بازار میں 12 اکتوبر بروز جمعرات صبح دس بجے ، ضلع پشین میں 13 اکتوبر بروز جمعہ صبح دس بجے، ضلع قلعہ عبداللہ میں 16 اکتوبر بروز سوموارصبح دس بجے جبکہ ضلع موسی خیل بازار میں 20 اکتوبر بروز جمعہ صبح دس بجے عظیم الشان احتجاجی جلسے منعقد ہونگے جس سے پشتونخوا میپ ،عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل ڈیموکرٹیک موومنٹ کے قائدین خطاب کرینگے۔ اجلاس نے شہید ارباب غلام کاسی ایڈوکیٹ کی شہادت کے واقعے کے شفاف تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں بدترین مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت پر تشویش کا اظہارکیا گیا اور غریب اور متوسط طبقے کے لئے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تجارت کی بندش اور کسٹم حکام کا تاجروں کے خلاف غیر قانونی اور تجارت دشمن اقدامات کی پروزور مذمت کی گئی اور اصلاح احوال کے لئے فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا۔دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی سیکورٹی اداروں کی مکمل ناکامی قرار دیا اور مطالبہ کیا گیا کہ دہشتگردی کے حوالے سے ریاستی پالیسی کی تبدیلی اشد ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر دہشتگردی اور دہشتگردوں کا خاتمہ ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ معدنیات سے مالامال علاقوں میں ایف سی کی سیکورٹی کے نام پر بھتہ خوری کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تمام علاقوں سے ایف سی کی بے دخلی کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس نے کیسکو کی جانب سے پہلے سے ہی معاشی مشکلات کے شکار عوام پر بجلی کے ناروا بلوں مسلط کرنے ، گھروں پر چھاپے مارنے اور شریف شہریوں کو تھانوں میں بند کرنے اور ان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی مذمت کی گئی اور ان منفی اقدامات کے خلاف عوام کو متحرک کرنے اور احتجاج شروع کرنے کو برحق قرار دیا۔اجلاس نے ملک اور بالخصوص سندھ میں پشتون افغان اور افغان کڈوال عوام کے خلاف بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے خلاف اقدامات کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اجلاس میں پبلک سروس کمیشن کی جانب سے محکمہ صحت میں ڈاکٹروں سمیت دیگر آسامیوں میں کوئٹہ ،ڑوب ،لورالائی اور سبی ڈویڑنز کو یکسر نظر انداز کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور پبلک سروس کمیشن سے مطالبہ کیا گیا کہ ان آسامیوں کو فی الفور منسوخ کرکے تمام ڈویڑنز میں برابری اور انصاف کے اصولوں کے مطابق از سر نو تقسیم کیا جائے تاکہ بے روزگار ڈاکٹروں اور دیگر نوجوانوں کو روزگار کے یکساں مواقع حاصل ہو سکیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر پبلک سروس کمیشن نے محکمہ صحت کے آسامیوں کو منسوخ نہیں کیا تو ان کو عدالت میں چیلنج کیا جائیگا۔


