کورونا گردی کے ذریعے طلبہ کی تعلیم تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی
کوئٹہ(؛ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ میر لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ پہلے دہشتگردی کی آڑ میں بلوچستان میں عوام کی زندگی مفلوج بنادی گئی اب کورونا گردی کے نام پر صوبے کے نوجوانوں کی تعلیم تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے سلیکٹڈ ومصنوعی حکومتیں پوری طور پر تعلیمی کانفرنس بلائیں اور تعلیمی اداروں کی ایس او پیز کے تحت کھولنے کیلئے اقدامات کریں تاکہ طلباء کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے صوبے میں 14فیصد آبادی انٹر نیٹ تک رسائی رکھتی ہے جبکہ 86فیصد لوگ انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں آن لائن کلاسز ڈرامہ اور بلوچستان کے طلباء وطالبات کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے ان خیالات کااظہارا نہوں نے بی ایس او کی طرف سے لگائے گئے کیمپ میںمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بی این پی کے مرکزی رہنماء میر ہمایوں عزیز کرد ،جاوید بلوچ،فارو ق شاہوانی،بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ،نائب چیئر مین خالد بلوچ،انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ،عاطف حمید رودینی، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چیئر مین عالمگیر خان مندوخیل،پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ملک عمر کاکڑ اور دیگر بھی موجود تھے نوابزادہ میر لشکری رئیسانی نے کہا کہ آج صوبے کی طلباء تنظیمیں اپنے قانونی حق کیلئے سراپا احتجاج ہیں ہم یہاں ان کے ساتھ یکجہتی کیلئے آئیں ہیں یہ طلباء کی بقاء کا مسئلہ ہے اور وہ اپنے آئندہ آنے والی نسل کی بات کررہے ہیں پہلے بلوچستان کو جعلی دہشتگردی کے ذریعے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے اور ان پر دہشتگردی کا جنگ مسلط کر دیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کی معاملات زندگی مفلوج ہوکررہ گئی انہوں نے کہا کہ اب کورونا گردی کے ذریعے صوبے کے طلباء وطالبات کا تعلیم خراب اور تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ایچ ای سی کی جانب سے ایسا فیصلہ مسلط کیا گیا ہے جس کا زمینی حقائق سے دور تک واسطہ نہیں انہوں نے کہا کہ صوبے کے 14فیصداضلاع میں انٹر نیٹ موجود ہے جبکہ 86فیصد آبادی انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہے رہی سہی کسر بجلی کی بے جا لوڈ شیڈنگ نے پوری کر دی ہے کوئٹہ میں 8سے 10گھنٹے جبکہ ایسے اضلاع موجودہیں جہاں 21گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ آن لائن کلاسز طلباء وطالبات کے ساتھ ڈرامہ اور سنگین مذاق ہے کورونا کو بہانہ بنا کر ان کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کی جارہی ہے ملک بھر میں بازاریں کاروبار کھل گئے تو ایس او پیز کے تحت تعلیمی ادارے بھی کھولے جاسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم سلیکٹڈ ومصنوعی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر تعلیم کے حوالے سے کانفرنس بلائیں جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں اور ایس او پیز کا تعین کر کے تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں ہم طلباء تنظیموں کی جائز مطالبات کا ہر فورم پرحمایت کرتے ہیں جعلی حکومت کی کارکردگی سے پتہ چلتا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت عوام کی خیر خواہ نہیں اور نہ ہی غیر منتخب لوگوں سے ہم کسی امید کی توقع رکھ سکتے ہیں۔


