اسرائیلی حملوں میں 196 فلسطینی جاں بحق، حماس کی راکٹ باری سے 40 صہونی ہلاک، سیکڑوں زخمی

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کے دعوے کے بعد غزہ میں فضائی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 198 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ فلسطین کی وزارت صحت نے بتایا کہ شام 4 بج کر 20 تک ’198 افراد کے شہید اور ایک ہزار 610 کے زخمی‘ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے گزشتہ سالوں کے دوران کیے گئے سب سے بڑے حملے میں 40 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے گزشتہ سالوں کے دوران کیے گئے سب سے بڑے حملے میں 40 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے۔ میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی میڈیکل سروس اور اسرائیلی ایمرجنسی سروس نے مرنے والوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 40 افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید سینکڑوں مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔ حماس کی جانب سے جہاں ایک طرف ہزاروں راکٹ غزہ کی پٹی پر فائر کیے گئے وہیں مسلح افراد بھی شہر میں داخل ہو گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے اور صہیونی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شدت پسندوں نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس حملے کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دشمن ایسی قیمت چکائیں گے جو انہوں نے کبھی نہیں چکائی ہو گی، ہم ابھی جنگ میں ہیں اور اس جنگ کو جیتیں گے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہم نے غزہ میں فضائی حملے کیے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق شہر میں دھماکے ہو رہے ہیں اور کم از کم دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ زمین، سمندر اور پیراگلائیڈرز کی مدد سے فضا سے اسرائیل میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کا مقابلہ کررہے ہیں جہاں اس کارروائی سے قبل ہزاروں کی تعداد میں راکٹ فائر کیے گئے۔ فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچ نے کہا کہ یہ مجموعی طور پر ایک زمینی حملہ تھا جو پیراگلائیڈرز، سمندر اور زمین کے ذریعے کیا گیا، اس وقت ہم غزہ کی پٹی کے اطراف چند مقامات پر لڑ رہے ہیں اور ہماری فورسز اسرائیل میں زمین پر لڑ رہی ہیں۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملے میں 2200 سے زائد راکٹ فائر کیے گئے البتہ حماس کا کہنا ہے کہ انہوں نے 5ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے۔ ہفتے کی صبح غزہ سے اسرائیل پر 5000 راکٹ فائر کیے گئے جس کے بعد فلسطین اور اسرائیل میں جنگ چھڑ گئی، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے حملے جاری ہیں جس میں صیہونی فوجیوں سمیت 40 اسرائیلی ہلاک، سیکڑوں زخمی اور درجنوں یرغمال بنالیے گئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق حماس کے ملٹری ونگ نے اسرائیل کے خلاف آپریشن الاقصی طوفان کا اعلان کرتے ہوئے ا?ج صبح 5 ہزار راکٹ فائر کیے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطین اور اسرائیل کے درمیان نئی جنگ چھڑ گئی، غزہ سے اسرائیل پر ہزاروں راکٹ حملے ہوئے، غزہ سے راکٹ حملوں کے بعد تل ابیب سمیت پورے اسرائیل میں جنگ کے سائرن گونج اٹھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں