اسرائیل عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہے، جماعت اسلامی
لاہو ر(مانیٹرنگ ڈیسک) جماعتِ اسلامی پاکستان کے نائب امیر، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسرائیل عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ اور مہذب دنیا کے سینے پر ناسور ہے۔ اسرائیلی صیہونی دہشت گردی نے فلسطینیوں پر ظلم و جبر، قتل و غارت گری اور فلسطینیوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کی انتہا کردی۔ لاہو رمیں اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیتی کانفرنس، ڈیفنس میں فکری نشستوں اور مجلسِ قائمہ سیاسی امور کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں نے اپنی زمین واگزار کرانے، اسرائیلی ناجائز قبضہ کے خاتمہ اور آزادی کے لیے اپنا جائز حق استعمال کرتے ہوئے جرات، دلیری سے پیش قدمی کی۔ اسرائیل بمباری کے ذریعے عام نہتے شہریوں، خواتین اور بچوں کو قتل اور بستیاں برباد کررہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی طرف سے اسرائیل کی ناجائز سرپرستی منافقت، غیرجمہوری اور غیرانسانی روِش کی بدترین مثال ہے۔ پوری دنیا کے مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بعض اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی جرآت مندانہ مزاحمت کی بنیاد پر اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے کے ارادے ترک کردیں۔ سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور ایران مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ فلسطینیوں کی حفاظت اور اسرائیلی صیہونی ناجائز قبضہ کے خاتمہ کے لیے فوری کردار ادا کریں۔ چین، امریکہ اور روس کے لیے موقع ہے کہ مسلمانوں کے جائز حق کے لیے غیرمتعصبانہ اور حق پر مبنی کردار ادا کریں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ نظامِ مصطفیۖ ہی پاکستان کے بحرانون کا حل ہے۔ اقامتِ دین کا فریض ہر مسلمان پر فرض ہے۔ پاکستان میں اقامتِ دین کے لیے اکابرین کی مثبت تعمیری کوششوں سے آئین، قراردادِ مقاصد، اکابر علما کے 22 نکات، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ضابطہ اخلاق اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات بہت مضبوط بنیادیں ہیں۔ حکمران طبقوں نے انحراف اور عمل نہ کرکے پاکستان کو بدترین بحرانوں سے دوچار کردیا ہے۔ قرآن و سنت کی بالادستی، آئین و قانون اور عدل کی عملداری اور صاف شفاف انتخابات کے انعقاد پر تمام اسٹیک ہولڈرز آئینی دائرہ کار کے پابند ہوجائیں۔ عوام مہنگائی، بجلی، پٹرول، گیس کی ناقابل برداشت مسلسل بڑھتی قیمتوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے نجات چاہتے ہیں۔


