جامعہ بلوچستان کے اساتذہ، افسران اور ملازمین تاحال ماہانہ تنخواہ سے محروم

کوئٹہ (آن لائن ) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین تاحال ماہانہ تنخواہ سے محروم ہیں جبکہ پچھلے مہینے کی تنخواہ بھی بمشکل 15 ستمبر تک ملی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک طرف اساتذہ کرام اور ملازمین کو وقت پر مکمل تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی جاتی جبکہ دوسری طرف جامعہ کے انتظامیہ کی ملی بھگت سے واپڈا کے اہلکار غیرقانونی طور پر جامعہ کے کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کے بجلی کے میٹرز زبردستی نکال کر لے جارہے ہیں، بیان میں واضح کیا کہ واپڈا کے بجلی کے بل کی جمع کرنے کی تاریخ ہر مہینے کی پانچ تاریخ تک ہے اور جن ملازمین نے مختلف بینکوں سے مجبورا قرضے لئے ہیں ان سے بھی مقررہ 5 تاریخ کے خطیر رقم جرمانے کے طور پر لی جاتی ہیں لیکن جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین کو تنخواہیں 15 تاریخ تک بمشکل ملتی ہیں لیکن جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین ادھار کرکے بجلی کے بل جمع کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بجلی کے میٹرز غیرقانونی طور پر زبردستی لے جاتے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی واپڈا اہلکاروں کے اس غیرقانونی اور ظالمانہ اقدام کے خلاف جب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما¶ں نے رجسٹرار جامعہ بلوچستان سے شکایت کی تو رجسٹرار نے ملازمین کا ساتھ دینے کے بجائے رہنما¶ں سے انتہائی تذلیل آمیز رویہ اختیار کرکے رہنما¶ں کا تذلیل کیا جو قابل مذمت فعل ہے۔۔بیان میں مزید کہا کہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، رجسٹرار،ٹریڑار ایک ڈین نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تحریری معاہدے کے باوجود طے شدہ پوائنٹس جیسا کہ پروموشن، آپ گریڈیشن، تینوں ایسوسی ایشنز کی کیمپس اور دیگر کمیٹیوں میں نمائندگی، ٹیچرز ہاسٹل میں عارضی طور پر رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے ایک کمرے کا کرایہ پندرہ ہزار روپے تک بڑھانے، میڈیکل بلز کی عدم فراہمی اور دیگر ملازمین دشمن اقدامات اٹھائے جو وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کے زمرے میں اتی ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس بابت ایک اہم مشترکہ اجلاس بروز منگل 10 اکتوبر کو ایڈمن بلاک میں طلب کیا ہے جس میں سخت فیصلے کئے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں