بھارت: ڈھائی ماہ سے گرفتار جامعہ ملیہ کی طالبہ صفورہ زرگر کی ضمانت منظور
نئی دہلی — بھارت کے دارالحکومت میں دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبہ 27 سالہ صفورہ زرگر کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔
صفورہ زرگر چار ماہ کے حمل سے ہیں۔ درخواستِ ضمانت پر سماعت کے دوران سولیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا کہ انہیں صفورہ زرگر کو انسانی بنیادوں پر رہا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اس سے قبل دہلی پولیس نے کہا تھا کہ تہاڑ جیل میں گزشتہ 10 برس میں 39 ولادتیں ہوئی ہیں جب کہ صفورہ زرگر کا حمل سے ہونا ان کو ضمانت دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
صفورہ زرگر جامعہ ملیہ اسلامیہ کوآرڈینیٹشن کمیٹی کی رکن ہیں۔ وہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف جامعہ ملیہ میں چلنے والی تحریک میں پیش پیش رہی ہیں۔
دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے انہیں دہلی میں ہونے والے فسادات کے سلسلے میں 10 اپریل کو گرفتار کیا تھا جب کہ ان پر انتہائی خطرناک انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس قانون کے تحت جلد ضمانت نہیں ملتی۔
صفورہ زرگر نے اپنی درخواست میں اپنے حاملہ ہونے کو ضمانت کی بنیاد بنایا تھا۔ اس سے قبل دہلی پولیس نے تین بار ان کی ضمانت کی مخالفت کی تھی۔
پولیس نے ان پر جعفر آباد میں سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران ایک سڑک بند کرنے اور دہلی فسادات کی سازش کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے۔


