بھارتی ریاست منی پور میں آگ میں جھلستے ایک شخص کی وڈیو وائرل
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی ریاست منی پور میں آگ میں جھلستے ایک شخص کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد قبائلی اقلیتوں کی طرف سے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق منی پور ریاست میں ایک زخمی شخص کے جسم پر لگی آگ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اقلیتی قبائلی گروہوں کی طرف سے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جہاں 5 ماہ سے زیادہ پرتشدد نسلی تنازعات عروج پر ہیں جس کے نتیجے میں اب تک 180 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ریاستی حکام نے کہا کہ انہوں نے وفاقی پولیس کو اس واقعے کی تفتیش کا حکم دیا ہے جو کہ مشتبہ طور پر 4 مئی کو پیش آیا تھا۔ خیال رہے بھارتی ریاست منی پور میں 3 مئی کو اس وقت حالات کشیدہ ہوئے تھے جب اکثریتی ’میتی‘ قبیلے اور اقلیتی ’کوکی‘ قبیلے کے درمیان سرکاری مراعات، ملازمتوں اور تعلیم میں مختص کوٹے کی تقسیم پر تصادم ہوا تھا۔ شدید تنازعات کے بعد بھی وہاں پرتشدد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، باوجود اس کے کہ حکومت کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے جہاں وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کو سیکیورٹی ناکامی کا سامنا تھا۔ تاہم پولیس کی طرف سے تصدیق شدہ سوشل میڈیا پر وائرل 7 سیکنڈ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک زخمی شخص کانٹے دار تاروں کے قریب پڑا ہوا تھا، جس کے جسم کا کچھ حصہ آگ سے جھلس رہا تھا۔ ویڈیو میں فائرنگ اور لوگوں کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ وہ شخص زندہ تھا یہ دم توڑ چکا ہے۔ حکام نے متاثرہ شخص کی شناخت لالدن تھنگا کھونگسائی کے نام سے کی اور منی پور کے قبائلی گروپ نے کہا کہ اس کا تعلق کوکی قبیلے سے تھا۔ منی پور ریاست کے سیکیورٹی ایڈوائزر کلدیپ سنگھ نے کہا کہ اس شخص کو 4 مئی کو قتل کیا گیا تھا جب دو قبائلی گروہوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا تھا اور اس دوران مشتعل ہجوم نے دو قبائلی خواتین کو برہنہ کرکے جنسی ہراساں کیا تھا۔


