ہماری زمین، ثقافت، ساحل و سائل کی بقاہ اسی میں ہے کہ ہم منظم رہے، بی ایس او کی تقریب حلف برداری سے رہنماؤں کا خطاب
کوئٹہ (پ ر)بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نو منتخب کابینہ و مرکزی کمیٹی کے اراکین کی تقریب حلف برداری و بلوچی دیوان بولان میڈیکل کالج شال میں منعقد ہوا۔بی ایس او کے سابق چیئرمین جہانگیرمنظور بلوچ نے نو منتخب کابینہ و مرکزی کمیٹی کے اراکین سے حلف لیا۔تقریب میں بلوچستان نیشنل پارٹی ، نیشنل پارٹی، بی ایس او پچار،پی ایس او اور پی ایس ایف کے قیادتسمیت طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نو منتخب چیئرمین بلاچ قادر نے جرائت مندانہ انداز میں تمام تر تنظیمی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ہماری زمین ، ہماری ثقافت ، و ساحل وساہل کی بقاہ اسی میں ہے کہ ھم ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہے ہیں ۔ ہم بحیثیت بلوچ اس پورے ریجن میں وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اس عالمی جارحیت سے اثر انداز ہوئے ۔جہاں ایک طرف بلوچ طلبا سمیت سیاسی اسیران کو پاکستانی جبر کا سامنا ہے وہی دوسری طرف متحدہ عرب امارات ایران و دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی بلوچ کی جان و مال محفوظ نہیں ہے تو اس صورتحال میں ہمیں زیادہ سے زیادہ منظم ہونے کی ضرورت تاکہ ان بڑی قوتوں کے اگے دیوار بن سکیں ۔ بی این پی کے مرکزی خواتین سیکریٹری شکیلہ نوید دہوار نےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او کے سابق قیادت کو کامیاب کونسل سیشن کے انعقاد اور نو منتخب قیادت کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس او کے نو منتخب قیادت سے امید ہے کہ وہ دیگر تمام قوم دوست طلبا تنظیموں کو ساتھ لے کر چلے گے اور فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما غلام نبی مری نے موجودہ صارتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بی ایس اور کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں دنیا کے تمام بڑی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کی دفاع کرتے ہوئے کمزور ممالک پہ مسلسل چڑائی کررہے ہیں وہی دوسری طرف محکوم قوموں کے اندر بھی بڑے بڑے سرمایہ دارانہ لارڈز بھی ایک دوسرے کی پشت پنائی کرتے ہوئے عالمی جارحیت کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے بی ایس اوکے نو منتخب قیادت کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ بی ایس او بلوچ سیاست کی نرسری رہی ہے۔ نادیدہ قوتوں کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ وہ بی ایس او کو کمزور کرکے طلبا اور نوجوانوں کو غیر سیاسی بنائے۔ امہد کرتے ہیں کہ بی ایس او کی نو منتخب قیادت ایسے تمام سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کی سیاسی تربیت جاری رکھے گی۔پروگرام کے آخری حصے میں بلوچ نوجوانوں کے لئے بلوچی دیوان منعقد کیا گیا جس میں بلوچی زبان کے نوجوان گلوکار مبارک دااور عبدوست بلوچ نے بلوچ و بلوچستان کے اوپر اشوبی اشعار کہے اور بعد میں پروگرام کا اختتام کیا گیا ۔


