ضلعی انتظامیہ کا زہری میں امن قائم کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے، جے یو آئی

خضدار (بیورو رپورٹ) جمعیت علما اسلام تحصیل زہری کے مجلس عاملہ کے رہنماﺅں تحصیل زہری کے امیر میجرمحمد رحیم موسیانی، مولانا عبدالغنی وڑیرہ غلام سرور وڑیرہ نوراحمد زہری مولاناعبداللہ زہری حاجی واحدبخش لوٹانی حاجی عبدالخالق مولانا امان اللہ ماسٹر امان اللہ مولاناعبدالرحیم حافظ عبدالرﺅف اور عبدالحمید زیری ودیگر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں گزشتہ روز مخالف پارٹی کی طرف سے پیغام امن کانفرنس کو فلاپ شو اور سیاسی دکانداری قرار دیکر زہری میں امن کی بحالی کا دعویٰ کیا تھا جو کہ چند گھنٹوں کے اندر ان کی حقیقت عوام کے سامنے آگءرات کو لیویز تھانہ کے عقب میں کھڑی کپاس کی گاڑیوں کو چوروں اور ڈاکوﺅں نے گن پوائنٹ پران سے نقدی اور موبائل لوٹ کر تسلی سے فرار ہوگئے ان کا یہ جھوٹا اور من گھڑت امن کا دعویٰ ان کی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے، اور سورج کو انگلی سے چھپانے کے مترادف ہے یہ لوگ امن کادعویٰ تو کرتے ہیں لیکن آدھی لیویز کی نفری کو وی آئی پی ڈیوٹیوں پر کیوں لگائی ہے دو مہینے سے وڈھ میں جنگ یے جتنے لوگ وڈھ میں مارے گئے ہیں اتنے لوگ زہری میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مارے گئے ہیں اور مین روڈ سے لیکر پورا زہری میں اسلحے کےزور پر چوری ڈکیتی عام ہے ہر طرف خوف و حراس ہے ترقی و خوش حالی کے دعویٰ بھی ایک ڈھونگ ہے۔ زھری کرخ مولہ باغبانہ کو ایک بزنس مین کے حوالہ ہیں جہاں ڈسٹرکٹ چیئرمین کو ٹھیکیداری اور بزنس سے فرصت نہیں۔ اور ٹھیکیداری کا عالم یہ ہیکہ زھری کے محکمہ حیوانات لیویز اور دیگر محکموں کے پوسٹس کو بھیچ کر زہری کے بیروزگار ڈگری ہولڈر نوجوانوں کی حق تلفی کی اور ٹھیکیداری عالم یہ ہے کہ زہری میں ایک ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں، شہید سکندر ہسپتال زھری ہو ڈیم، سکولز کھنڈرات کی شکل اختیار کیا ھے۔ رہی کسر باقی میونسپل کمیٹی زھری کے چیئرمین نے پوری کی ھے۔ سوہندہ پارک، گرین زھری کے درخت آپ کے سامنے ہیں جو کہ سوکھ رہے ہیں انہیں ایک ٹینکر پانی میسر نہیں۔ زھری بازار کی حالت اور صفائی سب کے سامنے ھے ہر طرف کچرے کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ رات میں آتے وقت اندھیرا ہونے سے خوف آتا ھے ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ موصوف چیئرمین مہینے میں ایک بار زہری آتا ھے۔ نیند سے فرصت ملا تو نماز ظہر کے بعد اپنے گروپ کے ساتھ آفس کا چکر لگا کر دوست یاروں کی تصویر میڈیا پر چھوڑ کر پھر غائب ہوتا ھے۔ اگر ترقی اسی کا نام ھے تو زھری عوام کو اسی ترقی سے بیزار ھے۔ اب عوام ان معافیہ کو بخوبی جانتا ھے اور انکے چہرے عوام کے سامنے بےنقاب ہوگئے اور آنے والے الیکشن میں ووٹ کا حق بہتر استعمال کرنے کی سوجھ بوجھ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں