گوادر میں 10 کروڑ روپے کی لاگت سے سمندری پانی کو میٹھا کرنے کا منصوبہ ناکامی کا شکار

حب (نمائندہ انتخاب) گڈانی کے شہریوں اور شپ یارڈ کے محنت کشوں کو فراہمی آب نوشی کا بلوچستان ڈیو لپمنٹ اتھارٹی کا 10کروڑ روپے کی لاگت کا سمندری پانی کو میٹھا کرنے کا منصوبہ ناکا می کاشکار ،چیئرمین واٹر کمیشن کے اجلاس میں بی ڈی اے حکام کے دعوے اور یقین دہانی بھی بے سود ثابت ہو گئی ،20روز سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ڈی سیلینیشن پلانٹ جوں کا توں پڑا ہوا ہے پلانٹ کمرے کے اندر جبکہ باہر کھلے آسمان تلے پڑی مشینری زنگ آلود ہو کر ناکارہ ہو نے لگی BDAحب گڈانی کے حکام کا پلانٹ کے حوالے سے کوئی بھی موقف دینے سے لیت ولعل سے کام لینے کی کوشش سمندری پانی کو میٹھا کرنے کے پلانٹ کے اہم آلات بھی زائد المعیاد ہونے کے انکشافات 2018ئ میں پلانٹ تنصیب وتعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد 6سال مکمل ہونے والے ہیں لیکن ان 6سالوں میں زمینی حقائق کے مطابق پلانٹ شاہد ہی چند ماہ ہی چلا ہو گا پلانٹ کے غیر فعال ہونے پر اہل علاقہ اور میونسپلٹی سربراہ بھی نالاں ہیں واٹر کمیشن کے اجلاس میں بھی چیئرمین میونسپل کمیٹی گڈانی وڈیرہ جان شیر نے BDAگڈانی ڈی سیلینیشن پلانٹ کے غیر فعال ہونے کی نشاندہی کی تھی اور چیئرمین واٹر کمیشن ایڈوکیٹ امان اللہ کنرانی و دیگر ممبران کو تفصیلات اور حقائق سے آگاہ کیا تھا تفصیلات کے مطابق دنیا بھر بالخصوص خلیجی ممالک میں سمندری پانی کو جدید ٹیکنالوجی سے میٹھا کر کے عوام کو پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اسی طرح کا ایک منصوبہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے مزدوروں اوراس سے ملحقہ انسانی آبادیوں سرکاری اسکولز اور صحت کے مراکز میں آنے والے لوگوں اور وہاں کے اسٹاف کو پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے 2007ئ میں اسوقت کی صوبائی حکومت نے تقریباً10کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا اور بیرون ملک سے واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ درآمد کیا گیا جو کہ شروع کے دنوں میں تقریباًڈھائی تین سال ماربل سٹی میں BDAکی ایک فیکٹری میں پڑا رہا بعدازاں ایک طاقتور ادارے کی مداخلت پر گڈانی کے ساحل پر اسکی تنصیب وتعمیر کے کام کا آغاز کیا گیا اور 2010ئ میں کام شروع کر کے 8سال کی طویل مدت میں پلانٹ کی تنصیب و تعمیر کا کام کیا گیا ذرائع بتاتے ہیں کہ کام کی تکمیل کے بعد جب پلانٹ کو آزمائشی طور پر چلانے کی کوشش کی گئی تو کئی ٹیکنیکل خامیاں سامنے آئیں جن میں پلانٹ کی مشینری میں موجود کھارے پانی کو میٹھا کرنے کی صلاحیت کرنے والے آلات کی کام کرنے کی صلاحیت میں کم وقت رہنے اور چوک ہو نے پر جگاڑ سسٹم کو بروئے کار لایا گیا اور کیمیکل ڈال کر انہیں درست کرنے کی کوشش کی گئی اور جگاڑ کامیاب ہوا بعدازاں سمندر سے پانی کھینچ کر ساحل کے کنارے پر تعمیر کئے گے واٹر ٹینک اور پائپوں کا مسئلہ درپیش آگیا جس کے مطابق ساحل سمندر پر پہاڑی پتھریلی زمین پر تعمیر کیا گیا واٹر ٹینک ٹوٹ پھوٹ کا شکارہو گیا تو دوسری طرف سمندری پانی کھینچنے کیلئے ڈالے گئے پائپ بھی سمندر ی پانی کھینچنے کی صلاحیت سے محروم نکلے لہٰذا پھر سے ایک دوسر ا جگاڑ کیا گیا جس کے مطابق سمندر کے کنارے ایک بور کر کے پانی نکالنے کے بعد واٹر پلانٹ کے دوسرے اور تیسرے ٹینک تک پانی پہنچانے کی کوشش کی گئی حالانکہ مذکورہ پلانٹ کسی بور سے پانی نکال کر ا±سے میٹھا کرنے کا نہیں بلکہ براہ راست سمندر سے پانی لیکر میٹھا کرنے کے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے لگایا جانا تھا اور اس مقصد کے تحت پلانٹ میں یومیہ 2لاکھ گیلن سمندری کھارا پانی میٹھا کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن بور سے مطلوبہ مقدار میں پانی کا حصول ممکن نہیں ہے واٹر کمیشن کے اجلاس میں چیئرمین BDAنے دعویٰ کیا تھا کہ پلانٹ 2022ئ تک فعال رہا ہے جبکہ مبینہ طور پر زمینی حقایق اسکے برعکس ہیں اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ آئندہ چند روز میں پلانٹ فعال کردیا جائے گا لیکن اس یقین دہانی کو بھی 20دنوں سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور پلانٹ جون کا توں بند حالت میں پڑا ہوا ہے ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ BDAواٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ سے شپ بریکنگ یارڈ کے مزدوروں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کا منصوبہ اسوقت فوت ہو گیا کہ جب شپ بریکرز نے BDAکے پلانٹ کا پانی مہنگا ہونے کے نتیجے میں خریدنے سے انکار کردیا BDAحکام کے اس موقف میں دم ہے کہ گڈانی میں Kالیکٹرک کی بجلی کا نظام درہم برہم رہتا ہے اور اسوقت بھی پلانٹ کی PMTخراب ہے جسکی درستگی اور ا±سے فعال حالت میںرکھنے کی ذمہ داری BDAکی ہے تاہم بجلی نہ ہونے کی صورت میں BDAحکام نے متبادل کے طور پر ایک ہیوی لوڈڈ جنریٹر رکھا ہوا ہے لیکن وہ بھی کھلے آسمان تلے پڑا سمندری نمی لگنے کی وجہ سے زنگ آلود ہو کر ناکارہ پڑا ہوا ہے اسی طرح سے دیگر مشینری واٹر باوزرز بھی کھلے آسمان تلے پڑے گل سڑ رہے ہیں اور واٹر باوزرڈزکو بھرنے کیلئے قائم کیا گیا ہائیڈرینٹ بھی تباہ وبرباد ہو چکا ہے اس حوالے سے ضرورت اس بات کی ہے کہ BDAگڈانی واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کے ناکام اور غیر فعال ہونے کے حوالے سے شفاف تحقیقات کی جائے اور اسکی ناکامی اور مبینہ ناقص منصوبہ بندی کے کرداروں کا تعین کیا جائے تاکہ قومی خزانے سے 10کروڑ روپے کی خطیر فنڈز کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں