پشتونوں نے حالات کا ادراک نہ کیا تو پاکستان میں فلسطینیوں جیسی حالت ان پر مسلط کی جاسکتی ہے، محمود خان اچکزئی

سنجاوی (یو این اے )پاکستان انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، معاشی حالت یہاں تک پہنچی ہے کہ غریب عوام دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہیں آج بھی ملک بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ملک کے تمام ذمہ داران اسٹیک ہولڈرز سیاستدان ججز وکلائ فوجی سول سوسائٹی جرنلسٹس سب مل بیٹھ کر ایک جرگہ بلائیں اپنے ماضی کی غلطیوں پر توبہ کریں اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور بچانے کیلئے پالیسیاں بناکر تمام ادارے اپنے دائرہ کار اور دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ملک کے پارلیمنٹ کو سپریم تسلیم کرکے سیاست میں مداخلت سے باز آئیں اور صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کا عہد کریں۔ ملک میں موجود افغان شہریوں اور تمام پشتونوں کو تنگ کرنے کی پالیسیاں نفرتوں کو جنم دیگی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور یو این ایچ سی آر سمیت تمام انسانی حقوق کے اداروں سے کہتا ہوں کہ پوری دنیا میں افغانوں کیلئے جو قانون رائج ہے وہی پاکستان میں لاگو ہونا چاہئے کیونکہ افغانوں نے اپنی افرادی قوت اور محنت سے پاکستان کی معیشت میں بڑا حصہ ڈالا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے جنوبی پشتونخوا کے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ہرنائی کا تین روزہ دورہ ختم کرکے سنجاوی کے دو روزہ دورے کے دوران مختلف علاقوں میں بڑے عوامی جرگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیائ کے دور میں افغانوں کو لاکر بسایا گیا اور یہاں سے ان کے مختلف گروپوں کو ان کے وطن میں روس کے خلاف لڑانے کیلئے ٹریننگز اور اسلحے دئے گئے اور اس وقت جب افغانوں کو روس کے خلاف لڑایا جارہا تھا تو انہیں مجاہد اور دیگر خطابات دئے گئے آج انہیں زبردستی نکالنے کی باتیں ہورہی ہیں یہ افغانوں کا تاریخی وطن ہے پوری دنیا میں یہ قانون رائج ہے کہ جس بچے کی پیدائش دنیا کے کسی بھی ملک میں جنم لے انہیں وہاں کی شہریت دی جاتی ہے اور جو لوگ کسی ملک میں آٹھ یا دس سال گزارے اور انکا ریکارڈ چیک کرکے کہ وہ کسی الزام یاجرم میں شامل نہ ہو تو انہیں شہریت دی جاتی ہے۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ پشتونوں نے اب بھی حالات کا ادراک نہ کیا اور متحد نہ ہوئے تو پھر فلسطینیوں کی طرح حالت ان پر مسلط کی جاسکتی ہے کیونکہ پشتونوں کو اللہ تعالی نے قیمتی وطن دیا ہے اور دنیا نے ہمارے وطن کے چپے چپے کو چھان مارا ہے ہمارے تمام قیمتی معدنیات کی معلومات لے چکے ہیں اسی وجہ سے پوری دنیا میں پشتونوں کے خلاف بدترین پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ یہ دہشت گرد ہیں فرقہ پرست ہیں ہیروئن فروش ہیں انہی پروپیگنڈوں کو بہانہ بناکر لوگ پشتونوں کے وطن پر حملہ آور ہوسکتے ہیں لیکن ہم تمام دنیا کے لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون اپنی پانچ ہزار سالہ زندگی میں نہ کبھی دہشت گرد رہے ہیں اور نہ ہی فرقہ پرست اور یہ صرف ہم نہیں کہتے بلکہ یہ دنیا جہان کے مورخین، جاسوسوں اور مختلف مستشرقین نے تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ پشتونوں کے وطن میں شب گزاری اور کھانا مفت ہے پشتون دیگر لوگوں کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکتھے بلکہ انسان دوست اور مہمان نواز قوم ہے پشتونوں نے صرف ایک کام ضرور کیا ہے کہ اپنے وطن کی دفاع اور اپنے ننگ و ناموس کیلئے سروں کی قربانی دی ہے اور اپنے وطن کو پالا ہے۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ سینیٹ کو قومی اسمبلی کے برابر اختیارات ملنے چاہئے کیونکہ سینیٹ میں قوموں کی نمائندگی ہے یہ ملک پانچ قوموں کا فیڈریشن ہے پشتونوں کو اپنے پانیوں بجلیوں لکڑیوں کوئلوں سنگ مرمر تیل گیس ماربل کرومائٹ اور تمام وسائل پر انکا پہلا حق تسلیم کرنا ہوگا پاکستان اگر کسی نے چلانا ہے تو یہاں انصاف ہونی چاہئے یہ ملک ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا قرضدار ہے یہ قرضے کرپشن کی نظر ہوچکے ہیں پشتونوں کے وطن میں کوئی میگا پراجیکٹس ان قرضوں سے نہیں بنی۔انہوں نے کہا کہ کرم چند گاندھی جی اور محمد علی جناح صاحب یقینا بڑے لوگ ہیں لیکن اسطرح نہیں ہے کہ گاندھی وکیل تھے اور آئے انگریزوں سے ہندوستان کے لوگوں کو آزادی دلادی بلکہ آزادی کیلئے ہمارے آبائ اجداد نے تاریخی قربانیاں دی ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ہماری تین جنگیں ہوچکی ہیں لیکن آج بھی واہگہ باڈر پر ہندوستان سے تمام اشیائ کی ترسیل جاری ہے پورا لاہور ہندوستان کے سامان سے بھرا ہوا ہے دوسری طرف نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیائ کیلئے سب سے بڑی منڈی افغانستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں ڈاکٹر نجیب اللہ شہید کے ساتھ چائے پی رہا تھا چمچ اٹھایا تو اس پر میڈ ان پاکستان لکھا ہوا تھا لہذا افغانستان کے ساتھ آزاد تجارت کو فی الفور کھولا جائے تاکہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف آباد ایک ہی قبیلوں کے لوگوں اشیائ ضروریہ لانے لیجانے میں مشکلات نہ ہوں اور ریاست انکو اپنی روزگار خود بنانے کی اجازت دے۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اباسین کے کنارے کروڑوں آباد پشتون اپنی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے اللہ تعالی سے بارش کی دعائیں کرتے ہیں اور ہمارے دریاوں پر غیروں نے سکھر بیراج پھر کوٹڑی بیراج پھر گدو بیراج پھر کوٹڑی بیراج اور جناح بیراج بنائی گئیں اور اگر پشتون اپنے پانیوں کی بات کریں تو سندھی ناراض ہوتے ہیں۔ سندھ میں کھانا کھاکر پیسے نہ دینے پر ہوٹل مالک پشتون کا کسی کے ساتھ جھگڑا ہوا آج پورے سندھ میں پشتونوں کو تنگ کیا جارہا ہے یہ صورتحال کسی صورت قابل قبول نہیں کیونکہ پشتون بھی پھر کسی وطن کا مالک ہے۔ محمودخان اچکزئی نے سنجاوی بازار،کلی ریگوڑہ، کلی پاسرہ، چوتیر تاندہ ونی، کلی بغاو آریانہ میں بڑے عوامی اجتماعات ، اولسی جرگوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مختلف جرگوں سے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدلرحیم زیارتوال مرکزی سیکرٹریز صلاح الدین اچکزئی، حاجی عبدالحق ابدال،صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سردار حبیب الرحمن دمڑ، حاجی عثمان ترین سمیت دیگر ضلعی رہنما?ں بھی خطاب کیا۔ جبکہ پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز ، ضلعی ، تحصیل ایگزیکٹوز ، علاقے کے معتبرین بھی ان اجتماعات میں موجود تھے۔ تمام علاقوں اور اولسی جرگوں سے قبل پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کا پرتپاک استقبال کیا گیا ، سنجاوی تحصیل میں ریلی کی شکل میں پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی پنڈال تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے جمعیت علمائ اسلام کے رہنمائ مرحوم مولوی شیر جان صاحب کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ محمود خان اچکزئی سے مختلف وفود نے بھی ملاقاتیں کیں۔محمودخان اچکزئی کا یہ تاریخی دورہ جاری ہے اور وہ جنوبی پشتونخوا کے مختلف ضلعوں میں اولسی جرگوں میں شرکت اور خطاب فرمائینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں