سوراب شاہراہ پر واقع ہوٹلز مسافروں کو لوٹنے میں مصروف، مہنگے داموں اشیا کی فروخت
سوراب (این این آئی) سوراب میں مرکزی شاہراہ پر واقع ہوٹلز اپنے مہنگے نرخ میں پورے پاکستان کو مات دے گئے، ہوٹل مالکان خود ساختہ اور من مانی ریٹ مقرر کرکے مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں مگر پوچھنے والا کوئی نہیں، عوامی حلقوں کا سوراب انتظامیہ سے قومی شاہراہ پر واقع ہوٹلز کے ہوش ربا نرخوں کا نوٹس لینے اور کھانے پینے و چائے کے مناسب ریٹ مقرر کرنے کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق چینی اور دیگر اشیائ خوردونوش کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود سوراب میں آر سی ڈی قومی شاہراہ پر واقع ہوٹلزکے نرخ بدستور آسمان سے باتیں کررہے ہیں جہاں کے ہوٹل مالکان اپنی من مانی کے زریعے لاچار مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں مگر ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ، آس پاس کے اضلاع حتی کہ دارلحکومت کوئٹہ میں بھی فی کپ چائے 50 روپے وصول کیا جارہا ہے لیکن سوراب میں قومی شاہراہ پر واقع ہوٹلز پر فی کپ چائے کی قیمت 60 روپے جبکہ قہوہ اور سبزچائے کی 30 سے 40 روپے ہے جو سراسر ناجائز اور اندھیر نگری کے مترادف ہے ، اسی طرح مذکورہ ہوٹلوں پرکھانے کے ریٹس بھی انتہائی مہنگے اور ایک عام غریب کی دسترس سے باہر ہیں، صارفین نے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر سوراب سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شاہراہ پر واقع ہوٹلوں کے مہنگے نرخ کا نوٹس لیکر انہیں مناسب ریٹ وصول کرنے کے پابند کرلیں۔


