جام کمال کے دور حکومت میں ساڑھے 23 ارب روپے کے منصوبے التوا کا شکار ہوئے، میر نوید کلمتی
گوادر (یو این اے )گوادر میں سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان کے دور حکومت میں ساڑھے 23 ارب روپے کے عوامی نوعیت کے منصوبے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث التوا کا شکار ہوگئے۔ گوادر اور پسنی کے اسپتال چاروں تحصیل میں بوائز اور گرلز کالجز کی عمارت سمیت اسی سے نوے فیصد کام ہونے کے باوجود گذشتہ دو سال سے التوا کے شکار ہیں ان خیالات کا اظہار حق دو تحریک کے مرکزی رہنما سابق نگران وزیر میر نوید کلمتی نے ڈپٹی کمشنر گوادر اورنگزیب سے ملاقات کے موقع پر کیا انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو مزید بتایا کہ گوادر ملک کا مستقبل میں معاشی ھب ہونے جارہا ہے جو بلوچستان کے دیگر علاقوں کے نسبت تعلیمی طور انتہائی پسماندگی کا شکار ہے تعلیمی ترقی کیلئے جام کے دور حکومت میں ضلع کے چاروں تحصیلوں میں بوائز اور گرلز کالجز کی منظوری دیکر ان کی عمارتوں پر کام تعمیراتی کام شروع کیا گیا گوادر پسنی کی اسپتالوں کی خستہ حال عمارتوں کی از سرنو تعمیرات کا آغاز کیا مکران کوسٹل ہائی وے پر مسافروں اور سیاحوں کی سہولیت کی خاطر اورماڑہ پسنی گوادر جیونی میں ریسٹ ایریا کی منظوری دی گئی اس کے ساتھ سیاحت کے فروغ کیلئے چاروں تحصیلوں ریزورٹ اور بیچ پارک کی منظوری دی گئی جیونی میں پانی کے مستقل حل کیلئے گوادر جیونی پائپ لائن بچھانے اور گوادر میں بجلی کے نظام میں بھتری لانے کے لیئےانڈر گرانڈ کیبلنگ کے ساتھ نئیں ٹرانسفارمر اور کھمبوں کیلئے 2021/2022 کے پی ایس ڈی پی میں شامل کئے گئے تھے مگر تمام منصوبے فنڈ کی عدم دستیابی کے باعث وقت پر مکمل نہ ہوسکے اور التوا کے شکار ہیں میر نوید کلمتی نے ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی کہ گوادر کے عوامی نوعیت کے منصوبوں کے فنڈ ریلیز کرنے میں اپنا کردار کریں۔


