پاکستان کی پارلیمنٹ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی امانت، کرپشن و کمیشن کا پلیٹ فارم ہے، مشتاق احمد

کوئٹہ(آن لائن) جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ ملکی آئین میں لکھا ہے کہ اقتدار ایک مقدس امانت ہے لیکن یہاں پر پارلیمنٹ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی امانت جبکہ کرپشن و کمیشن کا پلیٹ فارم ہے،ملک پانچ طبقے کارپوریٹ ، جاگیر دار و سرمایہ دار،جرنل، سول بیوروکریسی اور سیاستدان مل کھا اور چلا رہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انھوں نے کچلاک کلی ملازئی میں کوئٹہ کے امیر حافظ نور علی کی رہائشگاہ پر عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، عشائیہ سے حافظ نور علی ، عبدالکبیر شاکر ، ڈاکٹر عبدالرحیم ناصر ، محمد ہاشم کاکڑ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ، مقررین نے کہا کہ ملک خدا داد اور خصوصا بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں کے عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے رہے ہیں، عوام تعلیم، صحت، باعزت روزگار، امن وامان جیسے مسائل سے دوچار ہے، جتنے بچے اسکول میں ہے اس دگنی تعداد اسکول کے باہر کچرے کے ڈھیر پر اپنا رزق تلاش کرتے ہیں، پارلیمنٹ آزاد نہیں بلکہ غلام قوم کی غلامی کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے ، جہاں قانونِ سازی ملک کے 24 کروڑ عوام کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی پالیسی کے مطابق سرانجام دیا جاتا ہے ، کیونکہ پارلیمنٹ کے اندر انگوٹھہ چھاپ نمائیندے بیھٹے ہیں ،کیونکہ یہ عوام کی خیر خواہی نہیں بلکہ استعمار،سود خوری، کرپشن و کمیشن اور جائیدادیں وغیرہ بنانے کا پلیٹ فارم ہے ، انھوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے 210 قوانین پاس کئے اور 75 بل قانون بن گئے لیکن ان میں سے ایک بھی عوامی مفادات کے لیے نہیں بلکہ اشرافیہ کے لئے بنایا گیا ، یہ ایک فیصد اشرافیہ 470 فیصد ڈالر کی شکل میں مراعات لیتے ہیں ، جو ملکی بجٹ کا 50 ہے ، اشرافیہ اپنی تسلط قائم کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں ، انھوں نے کہا کہ بجلی ، گیس ، کھاد اور اشیا خوردونوش تک کی قیمتیں آئی ایم ایف کنٹرول کر رہے ہیں ، انھوں نے کہا کہ ملک میں بڑے بڑے کارخانے اور تجارتی مراکز بیوروکریسی اور ریٹائرڈ جرنیلوں کی ملکیت ہے ، اور یہ لوگ ملک کے اندر کاروبار ملکی کرنسی کے بجائے ڈالرز میں کرتے ہیں ، جو ایک المیہ ہے ، انھوں نے کہا کہ حالیہ ڈالرز بحران میں ملک کے بینک ملوث ہیں،انھوں نے کہا کہ غاصب اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم مسلط کر رکھی ہے۔ انھوں نے کہا آئی ایم ایف اسلام آباد میں بیٹھ کر ہمارے حکمرانوں کو 70 کروڑ ڈالر عیوض مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت سے روکا ، اور ہماری آزادی کی قیمت صرف 70 کروڑ ڈالر لگائیں ،انھوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی مجرم اور مجرم سیاستدان بن چکے ہیں ،عوام کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہوگا، ملکی حالات چہرے بدلنے سے نہیں بلکہ نظام بدلنے سے ترقی کریگا،اور اس کے لیے ایک انقلاب کی ضرورت ہے جو صرف اسلامی پاکستان کی نیک اور صالح قیادت ہی برپا کر سکتے ہیں، ووٹ کی پرچی کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ تبدیلی کا ذریعہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں