اہل غزہ کامیاب ہو گئے ہیں، اسرائیل جنگ ہار چکا ہے، سراج الحق

اسلام آباد(صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی ظلم وجبر کے خلاف روس اور چین کے موقف کو سراہتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ یہ بڑی طاقتیں بھی غزہ کو بچانے کے لئے مسلمانوں کا ساتھ دیں،کراچی سے چترال تک آزادی فلسطین کی جدوجہد کامیابی تک جاری رہے گی ،ہم کیسے زندہ رہ سکتے ہیں جب بچے بارودمیں جل رہے ہوں، مائیں بیٹیاں شہیدہورہی ہوں ، عزت کے ساتھ جینا عزت کے ساتھ مرنا چاہتے ہیں، 74لاکھ اسلامی فوج اگر اسرائیل کو دھمکی دے کہ جنگ بند کروورنہ ہم آرہے تواسرائیلی ٹینک غزہ سے واپس جاسکتے ہیں، ایسی اپیل اسماعیل ہنیہ نے پاکستا ن سے کی ہے مگر ہمارے ارباب اختیارتاحال اس بارے میں کوئی بات نہیں کرسکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو اسلام آبادکے بڑے تجارتی مرکز کراچی کمپنی میں” طوفان الاقصیٰ غزہ یکجہتی کیمپ” کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمداسلم،ڈائریکٹر شعبہ امورخارجہ جماعت اسلامی آصف لقمان قاضی،ضلعی امیر نصر اللہ رندھاوا نے بھی خطاب کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ ہم نے کراچی، پشاور،کوئٹہ اور لاہور میں غزہ ملین مارچ کئے، فلسطین کے لئے ہمارے ان بڑے احتجاجی مظاہروں سے فلسطینیوں کو حوصلہ ملا۔ اہل غزہ کامیاب ہو گئے ہیں، جنگ میں اسرائیل ہار چکا ہے، ساری دنیا کا باضمیر انسان غزہ کے لوگوں کے ساتھ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ غلام حکمران خاموش ہیں، غیرجانبدار ہیں جبکہ حقیقت میں یہ خوف کی وجہ سے اس سے دوچار ہیں اس کے باجود کہ وہ جانتے ہیں کہ اہل غزہ حق پر ہیں لیکن پھر بھی کچھ بولتے نہیں ہیں۔ یونیورسٹیز اور کالجز کے اساتذہ، طلبہ و طالبات، دنیا بھر کے وکلائ، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے علمبردار تنظیمیں حتیٰ کہ ہالی ووڈ کے اداکار تک اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیںاور یہ لوگ بھی مظلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے باوجود ساتھ کھڑے ہیں ان کا اہل غزہ کے ساتھ دین اور مذہب کا کوئی رشتہ بھی نہیں ہے۔ امیر جماعت نے کہا کہ دنیا آگاہ ہے کہ غزہ کے لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے، اہل غزہ دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں، ان کے گھروں پر قبضہ کیا گیا ہے،عمارتوں ہسپتالوںکو مسمار کر دیا گیا ہے، ان کی مساجد اور کاروبار پر قبضہ کر لیا گیا ہے، لہٰذا غزہ فلسطین کے مظلوموں کا دفاعی جہاد ہے اور وہ اپنی سرزمین عزت و ناموس کے لئے لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان کا ساتھ دیں اور غزہ کی حفاظت کے لئے مشترکہ دفاعی حکمت عملی کا اعلان کریں، اپنے حکمرانوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ باسٹھ دنوں میں غزہ کے بیس ہزار سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں، بچے اور خواتین بڑی تعداد میں شہید ہو گئیں، ان میں ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ 80 سالہ بزرگ اور 90سالہ بوڑھی خاتون شہید کی گئیں، ان کا جرم کیا ہے اس کے علاوہ کہ وہ مسلمان ہیں، آج وہ پوچھ رہی ہیں اپنے مسلمان حکمرانوں سے اگرانھوں نے آگے بڑھ کر غزہ کو نہیں بچایا تو یہی اسرائیل آگے بڑھ کر مصر کو نشانہ بنائے گا، اردن اور لبنان سمیت ساری دنیا کو نشانہ بنائیں گے اور ایران، ترکی اور سعودی عرب کو نشانہ بنائیں گے، گریٹر کا اسرائیل کا صیہونی منصوبہ ویب پر بھی موجود ہے اور ان کی پارلیمنٹ میں بھی آویزاں ہیں اور اس کا وہ اعلان بھی کر رہے ہیں اور ان کا نقشہ بھی انہوں نے شائع کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ان لوگوں پر حیران ہوں جو کہتے ہیں فلسطین میں دو ریاستیں قائم ہونی چاہئیں، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ بانی پاکستان قائداعظم نے کہا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز بچہ ہے، تو کل کا ناجائز بچہ آج جائز کیسے بن گیا وہاں امریکہ، کینیڈا، جرمنی، روس سے یہودی فلسطین میں جا کر آباد ہو ئے اور انہوں نے وسائل اور اسلحے کے زور پر فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر لیا، صیہونی لوگوں کو فلسطین کی سرزمین سے نکلنا ہو گا۔ سراج الحق نے اعلان کیا کہ طوفان الاقصیٰ غزہ یکجہتی کیمپ مستقل طور پر قائم رہے گا،سب لوگ یہاں سے اظہاریکجہتی کا سلسلہ جاری رکھیں گے،پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے مسلسل حماس کو پیغام ملتا رہے گا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ،ہمارے دل آپ کیس اتھ دھڑکتے ہیں۔ سراج الحق نے دنیا بھر کے امن وانصاف لوگوں سے اپیل کہ اسرائیل کے ظلم و جبر کے خلاف مظلوموں سے اظہار یکجہتی کے لئے اسرائیل اور ان کے سہولت کارممالک کی کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے ، ہماری طرف سے عوامی مہم شروع ہوگئی ہے، لیکن سچی بات ہے کہ یہ زمہ داری حکمرانوں کی ہے وہ کیوں اسرائیل اور ان کے سرپرست ملکوں کی مصنوعات درآمد کرتے ہیں وہ اگر ہمت کریں تو ان کی جانب سے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے اعلان سے دنیا بھر میں یہودی اور یہودی نوازکمپنیاں غزہ میں جنگ رکوانے کے سلسلے میں کرداراداکرنے پر مجبور ہوجائیں گی ِپھر مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ممالک جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں یا دوستی شروع کی اور ان کو تسلیم کرنے کو سوچ رہے تھے اپنے عزائم ترک کریں، جہاں جہاں مسلم ممالک میں اسرائیلی سفارت خانے موجود ہیں ان بند اور اسرائیلی سفیروں کو نکالا جائے،ہر طرح کے تعلاقات ختم کئے جائیں، امریکہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں اسرائیل کو مسلمانوں کے قتل عام کے لئے تھپکی دے رہا ہے ، خبردار کررہا ہوں کہ امریکہ نے یہ سرپرستی اور تھپکی دینا بند نہ کیا تو اس کے خلاف بھی شدیداحتجا ج ہوگا۔ سراج الحق نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی ظلم وجبر کے خلاف روس اور چین کے موقف کو سراہتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ یہ بڑی طاقتیں بھی غزہ کو بچانے کے لئے مسلمانوں کا ساتھ دیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی سے چترال تک آزادی فلسطین کی جدجوہد کامیابی تک جاری رہے گی ہم کیسے زندہ رہ سکتے ہیں جب بچے بارودمیں جل رہے ہوں، مائیں بیٹیاں شہیدہورہی ہوں، ہم عزت کے ساتھ جئیں گے عزت کے ساتھ مریں گے، بیس ہزار شہادتیں ہوچکی ہیں، مسلم ممالک کہاں ہیں ۔سراج الحق نے کہا کہ 74لاکھ اسلامی فوج اگر اسرائیل کو کو دھمکی دے کہ جنگ بند کروورنہ ہم آرہے تواسرائیلی ٹینک غزہ سے واپس جاسکتے ہیں، یہی اپیل اسماعیل ہنیہ نے کی ہے کہ پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے تو جنگ بندہوسکتی ہے، پاکستان کے ارباب اختیارابھی تک اس دھمکی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرسکے ہیں ، غزہ میں گھر گھر نعشیں پڑی ہیں حکمران سوئے ہیں، یہ تاریخ کو بھی جواب دہ ہونگے ۔امیر جماعت نے کہا کہ ہم خون کے آخری قطرے اور زندگی کے آخری لمحے تک اہل غزہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔بعدازاں سراج الحق نے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے بینرپر دستخط کئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں