سندھ میں گیس کی قلت اور کم پریشر کیخلاف نگران وزیراعلیٰ نے وفاق کو خط لکھ دیا

کراچی (انتخاب نیوز) سندھ میں گیس کی قلت پر نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے وفاق کو خط لکھ دیا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو لکھے گئے خط میں نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ سندھ کے تمام صنعتی زون گیس کی شدید قلت کا شکار ہیں، ہفتہ اور اتوار کو صنعتی زون میں گیس کی فراہمی مکمل بند ہوتی ہے جبکہ پیر تا جمعہ صنعتی زون میں گیس کا پریشر انتہائی کم ہوتا ہے۔ نگران وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گیس کی قلت سے صنعتی سرگرمیاں اور کاروبار مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں، صنعتی اور کاروباری طبقے کا مطالبہ ہے کہ گیس کی بلا تعطل فراہمی دی جائے، تاہم اس مطالبے کا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی سازگار جواب نہیں آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12.302 ارب ڈالر تک کم ہوچکے ہیں، گیس کی قلت نے اس صورت حال کو مزید بڑھا دیا ہے،گیس کی قلت کے سبب برآمد کنندگان ڈیڈلائن پورا کرنے سے قاصر ہیں، یہاں یہ بتانا مناسب ہوگا کہ اس سلسلے میں آئین واضح ہے، آئین میں واضح ہے کہ گیس کے استعمال کا پہلا حق اس صوبےکا ہے جہاں یہ پیدا ہوتی ہے، صوبہ سندھ ملک کی کل گیس کا 65 فیصد پیدا کرتا ہے۔ نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایس این جی پی کو دی جانے والی گیس اب واپس ایس ایس جی سی کو دی جائے، نئے کنوﺅں سے پیداوار کی الاٹمنٹ 50: 50 کے تناسب کے تاریخی عمل کی خلاف ورزی ہے، یہ گیس ماڑی فیلڈ کی الاٹمنٹ تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کو بھی آر ایل این جی خریدنے پر مجبور کیا جارہا ہے، سندھ کو آر ایل این جی خریدنے پر مجبور کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، اضافی گیس کے سوا صوبہ دیگر صوبوں کو گیس دینے کا پابند ہرگز نہیں ہے۔ نگران وزیراعلیٰ سندھ نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کے تمام صنعتی زون میں ہفتہ اور اتوار کی گیس بندش ختم کی جائے اور وہاں پورے پریشر کے ساتھ بلاتعطل گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، سندھ کو قدرتی گیس کا آئینی حصہ فراہم کیا جائے، گیس کا آئینی حصہ دیا جائے تاکہ صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں چل سکیں، نگران وزیراعظم گیس کا سنگین مسئلہ حل کرنے کی ہدایات جاری کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں