رواں سال کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا
کوئٹہ(یو این اے )سال2023ختم ہونے کو ہے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سمیت اندرون صوبہ کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا کوئٹہ شہر کے بیشتر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہیں میونسپل کارپوریشن میں فنڈز کی عدم دستیابی کے سبب کوئٹہ شہر میں جگہ جگہ کچہرے کے ڈھیر پڑے ہیں جس کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے مہینوں میں کسی علاقے میں کچہرہ نہیں اٹھا یا جارہا میونسپل کارپوریشن صرف وی آئی پی علاقوں تک محدود ہوکر رہ گیا جس کی وجہ سے عام شہری ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل کی وجہ سے پریشان ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کوئٹہ میں گرین بس سروس شروع کیا گیا جو ایک بہت بڑا بہترین منصوبہ ہے لیکن ابتک بلیلی سے بلوچستان یونیورسٹی تک آٹھ بسز چل رہے ہیں جبکہ نگران وزیرا عظم نے 100نئے بسز کا اعلان کیا لیکن تا حال ان کا پتا نہیں ہے کہ بسز کہا ںہیں 2023میں 25بسز لانے کا منصوبہ تھا لیکن تاحال ان کا کوئی حال حوال نہیں اسی طرح کوئٹہ میں شروع کیے گئے سڑکوں کے توسیع منصوبے بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوئے جن میں سریاب سبزل روڈ منصوبہ پر کام تاحال جاری ہے کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بھی اسی سال مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن ابھی تک مکمل ہونے کے آثارنظر نہیں آرہے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر اب تک سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہے کوئٹہ کے شہریوں نے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبہ کی عدم تکمیل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا یا ہے تاجر برادری نے بھی حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل پر تحفظات کا اظہار کیا اسی طرح کوئٹہ شہر میں پینے کے پانی کا مسئلہ بھی دن بدن گھمبیر ہوتا جارہا ہے اسی طرح سیوریج کا نظام بھی درہم برہم ہے۔


