اقامہ رکھنے پر نواز شریف، نواب ثنا اللہ اور جام کمال کے کاغذات بھی مسترد ہونا چاہئیں، بی این پی

خضدار(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق رکن قومی اسمبلی میر عبدالرﺅف مینگل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب سے نگران حکومت کو لایا گیا تھا ہم نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ موجودہ نگران حکومت کبھی بھی شفاف انتخابات نہیں کرائے گی ہمارے شک اب یقین میں بدل گیا ہے جس کا واضح مثال بی این پی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل اورپی ٹی آئی کے اکثر نامزدگان کے کاغذات کو مسترد کرنا ہے ۔ اگر اقامہ کے بہانے پر سردار اختر جان مینگل کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کیا جاتا ہے تو پھر میاں نواز شریف سردار ثنا اللہ زہری جام کمال خان کے کاغذات نامزدگی کو بھی مسترد کئے جانا چاہیے تھا۔ مذکورہ بندے بھی اقامہ بیرونی ممالک میں رہائش رکھتے ہیں ملک میں چلنے والے یہ دوغلے پالیسی کو کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی طرح بھی اپنے سائل وسائل سے دستبردار ہونگے نہ ہی اپنے شہدا کاخون بھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو حیلے بہانوں کے تحت مسترد کرکے حق نمائندگی سے اگر روکا جا ئے گا تو کس طرح الیکشن کو صاف و شفاف نہیں مانا جائے گا ۔ بلکہ اس طرح کے الیکشن کو نہ ملک نہ بیرونی ممالک مانینگے۔ اور یہ پسند اور ناپسند کرانے والے الیکشن ملک کے لئے مزید بدنامی کاباعث ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حربوں سے نہ ہم پہلے پریشان ہوئے ہیں نہ آئندہ ہونگے ۔ بلکہ ہم ہر میدان میں مقابلے کے لئے تیار ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں