چمن بارڈر کی بندش، سلیکٹڈ وزیر اعلی کا بیان قبول نہیں، پشتونخوامیپ
کو ئٹہ؛ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں چمن باڈر کی بندش اور اس کے کھولنے سے متعلق مسلط سلیکٹڈ وزیر اعلیٰ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعلیٰ کا بیان درحقیقت اس کی دوغلی اور پشتون قوم کے خلاف ان کی ذاتی تعصب پر مبنی طرز فکر وطرز عمل کا عکاس قرار دیاہے جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چمن باڈر پر تجارت طویل عرصے سے جاری ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی قدغن غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اس سے پہلے سنیٹر سید مشاہد حسین کی سربراہی میں پارلیمنٹ کی کمیٹی نے چمن باڈر کے حوالے سے صوبے کا دورہ کرتے ہوئے تمام اداروں اور سٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کی تھیں اور ایک واضح اور شفاف رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ چمن باڈر پر ہر قسم کی اشیاء خوردونوش سمیت تمام اشیاء وسامان کی تجارت کی اجازت ہے اور یہ باڈر ٹریڈ کا حصہ ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی جبکہ صرف منشیات اور اسلحے پر پابندی ہوگی۔ لہٰذا صوبائی وزیر اعلیٰ کی طرف سے جاری کردہ بیان کا مقصد چمن سمیت تمام باڈر کے ساتھ لاکھوں کی آبادی کے ذریعہ روزگار کو چھیننے کے ماسوائے کچھ نہیں اورنام نہاد قوائد وضوابط بنانے کا عذراپنے لیئے لو ٹ مارکا راستہ کھولنا ہے۔جبکہ مسلط وزیر اعلیٰ کی ذاتی تعصب کوئٹہ چمن روڈ کے ایک کھرب یعنی 100ارب کے منصوبے کو وفاقی پی ایس ڈی پی سے نکالنے سے ثابت ہوچکا ہے۔ جو کہ پشتونخوامیپ نے پچھلے دور حکومت میں وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کیا تھا اور یہ دو سال تک پی ایس ڈی پی کا حصہ رہا ہے اور اب اس منصوبے کو وفاقی پی ایس ڈی پی سے نکال دیا گیاجو کہ قابل مذمت ہے۔ لہٰذا اس منصوبے کو فی الفور وفاقی پی ایس ڈی پی میں دوبارہ شامل کرکے اس کیلئے باقاعدہ فنڈز ریلیز کیئے جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چار ماہ سے چمن باڈر کی بندش کے باعث تاجروں کو اربوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑے ہیں اور ان کے کسٹم سے کلیئر گاڑیاں وسامان کراچی اور چمن میں کھڑی کی گئی ہے اگر مسلط وزیر اعلیٰ اور ان کے اتحادیوں کو واقعی قوائد وضوابط کاغم ہوتا تو کسٹم سے کلیئر سامان کے آنے اور لیجانے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی؟ اور چار ماہ سے وہ چپ سادھ لیکر بیٹھے ہیں اور اب جب عوامی احتجاج دن بدن بڑھتی جارہی ہے تو وزیر اعلیٰ کو چمن باڈر کے کھولنے کے ساتھ ساتھ ان کے قوائد وضوابط کا خیال آیا۔ اور نام نہاد احساس پروگرام کے تحت لوگوں کی مدد کی بات کر ڈالی جبکہ ملک کے تمام عوام کو معلوم ہے کہ احساس پروگرام لوٹ مار کا ذریعہ تھا جو تضحیک پر مبنی اور ناقابل برداشت ہے۔ جبکہ جن لوگوں کو تجارت کی اجازت دی رکھی گئی ہے ان کا عام غریب عوام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ حکومت ہی کے من پسند افراد اور گروہ ہے جنہیں باقاعدہ پرمٹ دیکر تجارت کی اجازت دی گئی ہے اور عام عوام پر روزگارکے دروازے مکمل طور پر بند کیئے گئے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ صوبائی وزیر اعلیٰ اور اس کے اتحادی جن مذموم مقاصد کی خاطر جو طرز عمل اپنا چکے ہیں انہیں ان سے دستبردار ہونا ہوگاورنہ انہیں اس سے بھی بھرپور ایسے عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑیگا جس میں ان کی ساری حکومت زمین بوس ہوجائیگی۔ بیان میں وفاقی حکومت اور ان کے متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ چمن باڈر کو ہرقسم کی تجارت اور پیدل آنے جانے کیلئے فوری طور پر کھول دے اور عوام کو مزید احتجاج پر مجبور نہ کرے۔اور کوئٹہ چمن روڈ کے 100ارب کے منصوبے کو فی الفور وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کرکے اس کیلئے باقاعدہ فنڈز ریلیز کی جائے۔


