اقامہ رکھنے والے کے کاغذات منظور ہونا آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے، جھالاوان عوامی پینل
خضدار (بیورو رپورٹ) جھالاوان عوامی پینل کے سٹی آرگنائزر میر شہزاد خان غلامانی، مرکزی رہنما میر شہیباز خان قلندرانی، تحصیل صدر میر سعداللہ گنگو، مولانا علی اکبر مینگل ظفرتاج میروانی، سعیداحمد قلندرانی ودیگر نے اپنے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ موجودہ الیکشن کے سلسلے میں یہاں کے سابقہ ایم این اے کے کاغذات نامزدگی متعلقہ آر او نے ایک اقامہ کی بنیاد پر مسترد کئے تھے اقامہ کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ سابقہ ایم این اے اختر مینگل یو اے ای کے ایک نجی کمپنی میں ایک عرب شیخ احمد بن خلیفہ بن سعید ال مکتوم کے کفالت میں بطور منیجر کام کر رہا ہے آپ سب کے علم میں ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی سرکاری عہدہ یا پارلیمان کا رکن دوہری شہریت اور اقامہ رکھنے کا اہل نہیں ہوسکتا اگر کوئی شخص اس کا حامل ہوتو وہ آئین پاکستان میں کسی بھی عہدے کا حامل کسی صورت نہیں ہوسکتاچونکہ اختر مینگل نے اپنے کاغذات نامزدگی و اثاثہ جات کے گوشواروں میں مذکورہ اقامہ کا ذکر تک نہیں کیا جو کہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے اور آئین کے آرٹیکل 62 اور کے 63 کے کا مرتکب ہے انہوں نے کہاسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں کے کرپٹ اور مفاد پرست سیاست دان آخر جعلی تنخواہوں پر سعودی عرب اور یو اے ای کے اقامے کیوں رکھتے ہیں جب پول کھل جانے پر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سینیٹ ، قومی و صوبائی اسمبلی کے نشستوں سے معطلی سمیت نا اہل ہونے کا خطرہ ہے غور طلب بات ہے کہ سوئزر لینڈ سمیت کئی ممالک کے فارن بینک اکاو¿نٹس کھولنے پر آپ کی نیشنلٹی نہیں بلکہ رہائش رپورٹ کرتے ہیں یعنی وہ جگہ آپ رہتے ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں ان اقاموں کی بدولت اس جیسے کرپٹ سیاست دان ان بینکوں میں خود کو یو اے ای یا سعودی عرب کا ٹیکس دہندہ ظاہر کرتے ہیں تنخواہ وہ بے شک جعلی لیں لیکن ٹیکس وہاں وہ اصلی ادا کرتے ہیں اب ان ممالک میں یہ سہولت ہے کہ اقامے کے لئے وہاں آپ کو مستقل رہائش رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ چھ ماہ میں آپ کا ایک وزٹ کافی ہوتا ہے 2018 کے عام انتخابات میں بھی انہی کرپٹ عناصر کو زبردستی بلوچستان بالخصوص جھالاوان کے عوام پر مسلط کر دیا گیا ان پانچ سالوں میں اس کرپٹ ٹولے نے اربوں روپے کے بوگس اسکیمات کے ذریعے جن کا نام و نشان نہیں ہے اپنے بینک بیلنس بڑھاتے رہے حتیٰ کہ ہزاروں کی تعداد میں ملازمتوں کو بیچ کر ان رقوم کو اندرون و بیرون ممالک منتقل کرتے رہے جن کا واضح ثبوت یہ ہے کہ بلوچستان کے بیروزگار نوجوان سراپا احتجاج ہیں اقامہ رکھنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ کرپشن و کمیشن کی کمائی بیرون ملک منتقل کر سکیں اب ایک بار پھر ان کرپٹ عناصر کو بلوچستان خصوصاً جھالاوان پر مسلط کرکے ان کو کرپشن و اقربا پروری کا کھلی چھوٹ دی جارہی ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہمارے متعدد ادارے و اعلیٰ عدلیہ ان بلیک میلروں کے بلیک میلنگ میں آکر بلوچستان پر ان کرپٹ عناصر کو مزید پانچ سالوں کے لئے مسلط کر کے ان کو یہ موقع فراہم کر رہے ہیں کہ یہ عناصر پورے بلوچستان میں کشت و خون کا بازار گرم کر کے بلوچستان کو بھوک افلاس بیروزگاری بدامنی میں دھکیلنا چاہتے ہیں ہم ایسے متنازع فیصلوں کے پرزور مذمت کرتے ہیں ایسے متنازع فیصلوں سے اس طرح کے ظالم و جابر کرپٹ سرداروں و نام نہاد سیاست دانوں کو محب وطن پاکستانیوں پر تقویت دے کر موقع فراہم کر رہے ہیں انہوں نے کہا آج کے پریس کانفرنس کے توسط سے ہم اپنے ملک کے مقتدر اداروں و اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے متنازع فیصلوں پر نظر ثانی کر کے بلوچستان کے مظلوم و محکوم عوام پر رحم کریں اور ان نام نہاد سرداروں کو موقع فراہم نہ کرے۔


