بیلہ تا کراچی لوکل بسیں و کوسٹرز تیل بردار گاڑیاں بن گئیں، مسافروں کو پریشانی کا سامنا
اوتھل(یو این اے )بیلہ تا کراچی چلنے والے اکثر لوکل بسیں و کوسٹرز مسافر کوچز کے بچائے تیل بردار گاڑیاں بن گئیں،بیلہ سے کراچی جانےوالے مسافروں کو بسوں کا عملہ کراچی لیجانے کے بجائے حب میں تیل کے ڈپو پر زبردستی اتار دیتے ہیں،غیرقانونی ایرانی ڈیزل،پٹرول کی اسمگلنگ سے کسی بھی وقت کوئی افسوسناک واقع پیش آسکتا ہے۔ضلع لسبیلہ اور ضلع حب کی انتظامیہ فوری نوٹس لے،زرائع کا انکشاف، تفصیلات کے مطابق بیلہ تا کراچی چلنے والی اکثر لوکل بسیں و کوسٹرز مسافر کوچز کے بجائے تیل بردار گاڑیاں بن گئیں ہیں۔مسافروں نے انکشاف کیا ہےکہ کہ لسبیلہ تا کراچی چلنے والی اکثر مسافر بسوں و کوسٹرز میں غیر قانونی ایرانی تیل کی اسمگلنگ ہوتی ہے مسافروں کو کراچی لے جانے کے بجائے بس کاعملہ حب کے ویرانے میں زبردستی اتار کر گاڑی کا رخ تیل کے ڈپو کی طرف کر دیتے ہیں ،یا انہیں ڈپو لے جاکر دو سے تین گھنٹے تک انتظار کرایا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بس عملہ مسافروں کے لیئے اذیت کا باعث بنتا ہے مسافروں نے بتایا کہ بس کاعملہ کہتا ہے کہ اگر کوئی مسافر یہاں نہ اترے تو دو سے تین گھنٹے تیل خالی کرنے تک صبر کرنا ہوگا ، یہ وقت گزارنا مسافروں کے لیئے وبال جان بن جاتا ہے۔کیوں کہ بسوں اور کوسٹرز میں اکثر خواتین ، بوڑھے ، بچے اور مریض ہوتے ہیں جنہیں انتہائی مشکلات و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے عوامی عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ، ڈپٹی کمشنر حب اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان سے مطالبہ کیا ہیکہ بس مالکان کی اس ہٹ دھرمی اور غیر قانونی فعل کا سخت نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف غیر قانونی عمل دوسری جانب لوکل بسوں میں تیل کی اسمگلنگ کسی بھی بڑے سانحہ کا باعث بن سکتی ہے۔اس سے قبل بھی کئی مسافر گاڑیوں میں آگ لگ جانے کے سبب مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ انتظامیہ اس غیر قانونی امر سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے اور ملوث بسوں و کوسٹرز کے روٹ پرمٹ کینسل کیئے جائیں۔اور ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔تاکہ دوبارہ کوءافسوسناک واقع پیش نہ آئے۔


