پی ٹی آئی امیدواران کے کاغذات نامزدگی منظوری ،انتخابی نشان کے حصول کا خیرمقدم کرتے ہیں، جماعت اسلامی

لاہور(صباح نیوز)نائب امیر جماعتِ اسلامی اور این اے 123، 128 سے قومی اسمبلی حلقوں کے امیدوار لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ قومی سیاسی قیادت ماضی کی غلطیوں پر قوم سے معافی مانگے ، پی ٹی آئی امیدواران کے کاغذاتِ نامزدگی منظوری اور پشاور ہائیکورٹ سے انتخابی نشان کے حصول کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں پائیدار جمہوریت، غیرجانبدارانہ انتخابات کے انعقاد اور آئین و قانون کی حفاظت کے لئے ڈائیلاگ کریں۔ غیرجانبدارانہ انتخابات، ووٹرز کے اعتماد کی بحالی سے ہی سیاسی استحکام آئے گا۔ اگر 2013 اور 2018 کی طرح زہریلی پولرائزیشن، انتقامی شدت پسند سیاست اور دھاندلی زدہ الیکشن ہوئے تو ملک و مِلت کے لئے ہولناک سیاسی، اقتصادی، معاشرتی بحران منہ کھولے کھڑے ہیں۔لیاقت بلوچ نے این اے 123 میں صبح 9 بجے سے رات 10 بجے تک 17 پروگراموں ، کارنر میٹنگز اور جامع مساجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی آئین شکنی، جمہویت اور عدلیہ پر ڈاکہ زنی کے جرم میں آرٹیکل 6 کے تحت سپریم کورٹ نے سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے آئین، جمہوریت اور عدلیہ کی حفاظت کی ہے اور مستقبل میں بھی آئین سے ماورا ایڈونچر کا راستہ روکا ہے۔ فوجی آمریتیں آئین توڑکر اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کرکے سنگین سزا کی مستحق بن جاتی ہیں۔ ملک میں سیاسی، اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہے کہ قومی سیاسی قیادت بھی ماضی کی غلطیوں سے رجوع کرے، قوم سے معافی مانگے اور پائیدار جمہوریت کے لیے صاف شفاف کردار ادا کرے۔لیاقت بلوچ نے پیراگون سٹی، مسلم ٹائون، بھنگالی برکی روڈ میں علما کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اسلامی نظریاتی، تہذیبی کردار کی حفاظت اور نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے علما منبر و محراب سے ووٹ کی اہمیت، شہادتِ حق کیلئے ووٹ کے صحیح استعمال پر دینی اور قومی رہنمائی کریں۔ نظامِ مصطفیۖ کے نفاذ کے لئے علما کرام جوہری کردار ادا کرسکتے ہیں۔ قبلہ اول کی بازیابی، غزہ فلسطین کے مظلوموں کی مدد اور اسرائیلی صیہونی، امریکی ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں