اسرائیل کیخلاف مقدمہ لڑنے پر جنوبی افریقا کا آئینی وفد نوبل امن ایوارڈ کا حقدار ہے، کولمبین صدر

بگوٹا(صباح نیوز)کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی کے جرم میں اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کا مقدمہ اہم ہے ۔ آج اگر کوئی عالمی نوبل امن ایوارڈ کا حقدار ہے تو وہ، فلسطینی عوام کی نسل کشی کے جرم میں نیتان یاہو کو عدالت کے کٹہرے میں لانے والا، جنوبی افریقہ کا آئینی وفد ہے۔ ایکس پر ایک رپورٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ "غزہ میں اس قدر وسیع پیمانے کا عوامی قتل عام دو طرفہ فائرنگ سے نہیں ہوا براہ راست بمباری سے کیا گیا ہے”۔کولمبیا کے صدر پیٹرو نے سوشل میڈیا ایکس سے ایک سول سوسائٹی تنظیم کے جاری کردہ بیان کا جواب دیا ہے۔ بیان میں سول سوسائٹی تنظیم نے دعوی کیا ہے کہ "غزہ میں ہلاک ہونے والی عورتیں اور بچے، اسرائیل اور حماس کے درمیان جھڑپوں میں، دوطرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں”۔دعوے کے جواب میں صدر پیٹرو نے کہا ہے کہ "یہ دعوی درست نہیں ہے۔ فلسطینی عورتوں اور بچوں کی اموات دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آنے سے نہیں ہوئیں۔ ان اموات کا ذمہ دار نیتان یاہو ہے اور یہ وسیع پیمانے کا قتل عام براہ راست بمباری کا نتیجہ ہے”۔صدر پیٹرو نے بین الاقوامی دیوانِ عدالت میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا دعوی دائر کرنے پر جنوبی افریقہ کو سراہا اور کہا ہے کہ ” آج اگر کوئی عالمی نوبل امن ایوارڈ کا حقدار ہے تو وہ، فلسطینی عوام کی نسل کشی کے جرم میں نیتان یاہو کو عدالت کے کٹہرے میں لانے والا، جنوبی افریقہ کا آئینی وفد ہے”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں