سو سے زائد پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کو ٹریننگ سے محروم رکھنے کی کوشش قبول نہیں، ینگ ڈاکٹرز
کوئٹہ (پ ر) بلوچستان کے 100 سے زائد پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس پر اسپیشلائزیشن کے دروازے بند کرنے کا جو منصوبہ ہیلتھ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ بنا چکا ہے اس پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، بلوچستان کے تین میڈیکل کالجز سے فارغ ہونے والے اسٹوڈنٹس کے لیے ہاؤس جاب کی سٹائپند اور سلاٹس مختص نہ کرنا اس فرسودہ نظام کی تباہ حالی کا منظر پیش کرتا ہے، پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کے 2 سال سے زائد کے واجب الادا بقایا جات فنانس ڈیپارٹمنٹ کا تاحال ریلیز نہ کرنا ان کی نااہلی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری فنانس مسائل کا حل نکالیں ورنہ بلوچستان بھر میں احتجاج کی کال دیں گے۔ بلوچستان کے 100 سے زائد پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کو ٹریننگ سے محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کے حقوق پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ترقی یافتہ ممالک سپیشلائزڈ ہیلتھ میں انویسٹمنٹ کر کے بہتر سے بہترین سپیشلسٹ پیدا کیے جارہے ہیں اور ہم اپنے ڈاکٹرز کیلئے سپیشلسٹ بننے والے راستے بند کر رہے ہیں، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور گورنمنٹ بلوچستان کی نااہلی اور پالیسیوں کی عدم تسلسل کی وجہ سے جن 13 ڈی ایچ کیوز کو ٹیچنگ ہاسپٹلز ڈکلیئر کیے گئے وہ صرف کاغذ کی حد تک ہی محدود ہیں ان ہاسپٹلز کو فنکشنل بنانے کے لیے سپیشلسٹ ڈاکٹرز چاہیے ہوتے ہیں جن کو نہ تو اپوائنٹمنٹ مل رہی ہے اور نہ ہی لوگوں کو اسپیشلسٹ بننے دیا جا رہا ہے، بجٹ کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر فائنانس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں پوسٹ گریجویشنز کا پروگرام بند کرنے کا جو منصوبہ بنا چکا ہے وہ شرمناک ہے، تین میڈیکل کالجز پچھلے پانچ سال سے فنکشنل ہیں مگر کرپشن اور بدنیت حکمرانوں نے تاحال ان کالجز سے فارغ ہونے والے ڈاکٹرز کے لیے ہاؤس جاب کی سلاٹس اور سٹائپنڈ کا اہتمام نہیں کیا، بلوچستان میں جہاں اربوں روپے تو کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے 2 سال سے زائد کے واجب الادا بقایاجات سٹائپنڈ کا ریلیز نہ ہونا کمیشن خور فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی بد نیتی کا واضح ثبوت ہے، سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری فائنانس پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کو اگر پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی یا ان کے سٹائپنڈ کے ایریئرز بروقت ریلیز نہ کیے گئے اور بلوچستان کے تین میڈیکل کالجز سے فارغ ہونے والے ہاؤس آفیسرز کیلئے اگرسلاٹس کا تعین اور سٹائپنڈ کا بجٹ مختص نہ کیا گیا تو بلوچستان بھر میں احتجاج کی کال دیں گیاور اس کی تمام تر ذمہ داری سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری فائنانس پر عائد ہوگی۔


