ستر سال میں بلوچوں کو کوئی متحد نہیں کرسکا جو میری ماﺅں، بہنوں نے کر دکھایا، نام نہاد الیکشن کا بائیکاٹ کرنا ہوگا، خان قلات

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) خان قلات میر سلیمان داﺅد احمد زئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچوں کو متحد کرنے پر بہادر، نڈر ماﺅں بہنوں، بھائیوں کو میں ذاتی طور پر سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ ستر سال میں کوئی بلوچوں کو متحد اس طرح نہیں کرسکا جس طرح میری بہنوں، ماﺅں، بیٹیوں، بزرگوں کی حالیہ جدوجہد نے کر دکھایا۔ میر سلیمان داﺅد احمد زئی نے کہا کہ ماما قدیر، نصراللہ بلوچ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی حالیہ کاوشوں نے بلوچوں کے اتحاد، سوچ اور جدوجہد میں ایک نئی امنگ اور جذبے کو بیدار کیا ہے جس کی ضرورت شاید بلوچ قوم بشمول مجھے صدیوں سے تھی۔ خان قلات نے کہا کہ بلوچوں کو بیدار کرنے میں پاکستان کی غلام سوچ اور مظالم نے بہت بڑا کردار ادا کیا، کیونکہ غیور اور مہذب اقوام میں عورت کا مقام افضل اور اعلیٰ ہوتا ہے مگر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے جو مظالم ہماری معصوم عورتوں، بچوں سمیت دوسروں پر ڈھائے اس نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام بلوچوں اور دیگر اقوام شعور اور غیرت کو اجاگر کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ کیونکہ ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ، حفصہ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ عرف شاہ جی، ڈاکٹر شہزاد اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دوسرے اراکین نے جس انداز سے پاکستان کے مظالم، عدلیہ، زرخرید میڈیا اور صحافیوں کو نہ صرف دنیا کے سامنے عیاں کیا بلکہ بلوچستان، سندھ، پنجاب سمیت تمام دنیا کے بلوچوں، پشتون، سندھیوں اور دوسری مظلوم اقوام کے لوگوں کو متحد کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب، پاکستان سمیت تمام امن پسند، انسانی حقوق سے وابستہ لوگوں کی ہمدردیاں بھی حاصل کیں اور یہ ہی وجہ تھی کہ ملالہ اور گریٹا ٹومبرگ کی آوازوں سمیت دنیا کے تمام بڑھے جرائد نے اس حالیہ تحریک کو نہ صرف نمایاں کیا بلکہ جو مظالم اسلام آباد میں معصوم بلوچوں پر کیے وہ دنیا کے سامنے رکھ دیے۔ خان قلات نے ذاتی طور پر غیور پشتون عوام کا اپنی بلوچ ماﺅں، بہنوں، بھائیوں کا ساتھ دینے اور ان سے ہمدردی کی سنہرے الفاظ میں تعریف کی۔ خان قلات نے بلوچ، سندھی، پشتون اور دوسری اقوام کے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، اداروں، عام لوگوں کے ساتھ کی ساتھ ساتھ پنجاب کے اصول پرست صحافیوں اور ہمدردوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ خان قلات میر سلیمان داﺅد احمد زئی نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں سکے کے ایک رخ ہیں، دونوں کی اسٹیبلشمنٹ ظالم اور فاشسٹ ہیں، دونوں ملکوں کے عوام ان کے مظالم اور فاشزم کے ملبے تلے عرصہ دراز سے گھٹن محسوس کرتے اور ملک میں حقیقی آزادی اور انسانی حقوقوں کی پامالی کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ خان قلات نے حالیہ ایران اور پاکستان کے ایک دوسرے پر حملے کے حوالے سے کہا کہ ایران اور پاکستان نے حال میں جس بے شرمی اور بے حیائی سے بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر معصوم بلوچوں کا قتل عام کیا، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دنیا کے مہذب ممالک کو دونوں ظالم ممالک کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا کیونکہ دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ بلوچوں سمیت دنیا کے امن کے لیے خطرہ اور دنوں ممالک استعمار کی پیدائش ہیں۔ خان قلات نے آخر میں مزید کہا کہ پاکستان کے حالیہ انتخابات ماضی کے برعکس ایک اور مذاق ہے کیونکہ پاکستان سمیت دنیا جانتی ہے کہ اصل حکمرانی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے اور یہ سیاستدان، بلوچستان کے وہ قوم پرست جو اس ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ پر یقین کرتے ہیں سب کی ڈوریں راولپنڈی کے اصل حکمرانوں سے ہلتی ہیں اور سب کے سب وہاں سے ہی کنٹرول ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے میں اپنے بلوچستان اور پاکستان کے تمام بلوچوں سے یہ التجا کرتا ہوں کہ کوئی بھی آنے والے الیکشن میں ووٹ دینے نہیں جائیں اور مکمل طور پر نام نہاد الیکشن کا بائیکاٹ کرکے واضح پیغام دنیا کو دیں اور بتائیں کہ بلوچ اپنا ایک آزاد وطن چاہتے ہیں اور اگر کسی کو شک ہے وہ ریفرنڈم کرکے دیکھ لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں