کرک میں پی ٹی آئی اور پولیس میں جھڑپ، کارکنان سمیت 3 ہزار افراد کیخلاف مقدمہ درج
پشاور (انتخاب نیوز) خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں جھڑپ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں پولیس کے مطابق تین ہزار کے لگ بھگ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ضلع پولیس افسر وقاص خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی نے جلسے کے لیے کوئی اجازت نہیں لی تھی اور وہاں تعینات پولیس اہلکاروں پر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پتھراو¿ کیا، جس سے 12 ٹرکوں کے شیشے اور انجن توڑ دیے گئے ہیں اور دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں مقامی قائدین کے علاوہ ایک درجن سے زیادہ معلوم اور تین ہزار سے زیادہ دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے قائدین کا مو¿قف ہے کہ انہوں نے جلسے کے انعقاد کے لیے درخواست دی تھی لیکن ان سے درخواست وصول نہیں کی جا رہی تھی اور اس کے علاوہ اب انتخابات سے چند دن باقی ہیں۔ دیگر تمام جماعتوں کے جلسے منعقد ہو رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دی جا رہی اور ان کے جلسوں پر پولیس تعینات کر دی جاتی ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ روز ضلع کرک کے علاقے تخت نصرتی میں پیش آیا، جہاں تحریک انصاف پی کے 98 میں ورکرز کنونشن تھا۔ اس کنونشن سے پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت کا خطاب میں متوقع تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے صبح سے جلسہ گاہ میں پہنچ گئی تھی، جہاں ان کے کارکن ریلیوں کی شکل میں آ رہے تھے۔ پولیس نے کارکنوں پر آنسو گیس کے گولے پھینکے ہیں اور فائرنگ کی ہے جس سے ان کے کارکن شدید زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس افسر وقاص خان کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ میں موجود لوگوں نے پولیس گاڑی پر فائر کیا ہے لیکن جب ان سے کہا گیا کہ کارکن تو پی ٹی آئی کے زحمی ہوئے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ اپنے کارکنوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔


