قوم پرست جماعتوں کو پارلیمانی سیاست کے لئے اتحاد اور یکجہتی کرنی پڑیگی ،میر اسرار زہری

خضدار(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر میر اسرار اللہ زہری نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی تناظر میں بلوچستان کی نظریاتی قوم پرست جماعتوں کو پارلیمانی سیاست کے لئے اتحاد اور یکجہتی کرنی پڑیگی یا تو پھر اسمگلر بن کر پارلیمانی سیاست میں اپنی جگہ لے سکیں گے بصورت دیگر پارلیمانی سیاست کو خیر باد کہہ کر شعوری و فکری سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا تاکہ قومی تاریخ کو مسخ ہونے سے بچایا جاسکے۔ یہ بات انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، بی این پی عوامی کے سربراہ میر اسرار اللہ زہری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی نظریاتی قوم پرست جماعتوں کو یکجا کرنے کی کوششیں کیں آج بھی میرا انہیں یہی پیغام اور مشورہ ہے کہ پارلیمانی سیاست کے لئے وہ اتحاد کرلیں یکجا ہو جائیں اور اپنی قومی تاریخ کو مسخ ہونے سے بچائیں کیونکہ اس وقت جو پارلیمانی سیاست ہورہی ہے اس میں اسمگلر بننا پڑتا ہے ایسا نہ ہو کہ تاریخ دان جب تاریخ لکھے تو بگی کھینچنے والوں یا نرسنگ اردلی مہیا کرنے والوں سے بھی بد تر کردار یعنی موجودہ دور کی پی ایس ڈی پی کے دلدادہ بنا کرآنے والی نسلوں کو شرمندگی کے دلدل میں پھنسا کر قومی مجرم کی حیثیت سے متعارف نہ ہو جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ عنقریب 2002کے بعد کے جمہوری و نیم جمہوری الیکشن میں پیش آنے والے واقعات پر ایک تفصیلی کتاب لکھیں گے جس میں 2018اور خصوصا 2024کے انتخابات میں جو انوکھے کام ہوئے جن کی دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک یا نظام میں مثال نہیں ملتی ایسے شاہکار اور انوکھے واقعات نے ہمارے جمہوری نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں