بلوچستان سے سینیٹ کی تین خالی جنرل نشستوں پر ضمنی انتخابات، سیاسی جماعتیں حمایت کیلئے سرگرم

کوئٹہ (آن لائن ) بلوچستان سے سینٹ کی خالی ہونے والی تین جنرل نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے صف بندی و مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا بی اے پی قائدین اپنے دو سینیٹرز بلامقابلہ منتخب کرانے کیلئے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت سے جلد بات کریں گے تفصیلات کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی نے سینٹ کی دو نشستوں پر اتحادی جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش تیز کردی ہیں اس سلسلے میں بی اے پی کی مرکزی قیادت مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت سے جلد رابطہ کرے گی۔ بی اے پی ذرائع کے مطابق بی اے پی رہنماوں نے گزشتہ روز دونوں جماعتوں کے صوبائی قیادت سے ملاقات کی تھی جس میں انہیں مرکزی قیادت سے بات کرنے کا کہا تھا۔ بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ و پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعت بی اے پی کا موقف ہے کہ سینٹ کی دو نشستیں ہماری خالی ہوئی ہیں اس لئے بی اے پی کے امیدواروں کی حمایت کرکے انہیں بلامقابلہ منتخب کرایا جائے۔ واضح رہے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردئیے ہیں پیپلزپارٹی کی جانب سے میر عبدالقدوس بزنجو، جبکہ میر دوستین ڈومکی ن لیگ کے سینٹ پر امیدوار ہیں۔ بی اے پی کے سینیٹر کہدہ بابر، مبین خلجی جمعیت علمائے اسلام کے حاجی عبدالشکور غبیزئی سمیت 12 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں 9 مارچ کو امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری ہوگی جبکہ 14 مارچ کو بلوچستان سے سینٹ کی خالی ہونے والی 3 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ بلوچستان اسمبلی کے ارکان اسمبلی ووٹ دیکر سینیٹرز کا انتخاب کریں گے واضح رہے کہ 14 مارچ کو ہونے والے سینٹ کے ضمنی انتخابات میں بلوچستان اسمبلی سے ایک سینیٹر کو کامیاب کرانے کیلئے کم و بیش 22 ووٹ درکار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں