خضدار، ضلعی ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میں ادویات کا فقدان، مریض پرائیویٹ علاج کروانے پر مجبور

خضدار(بیورورپورٹ)خضدار کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میں دوائیوں سمیت صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ، ہسپتال کھنڈرات میں تبدیل علاج ومعالجہ کی کوئی بھی سہولتیں موجود نہیں ۔لاکھوں کی آبادی والے شہر کے ہسپتال بھوت بنگلہ کا منظر پیش کرنے لگی ہے مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔سرکاری ہسپتال میں ادویات کی قلت غریب لاچار بے بس مریض رل گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق خضدار بلوچستان کا دوسرابڑاشہرہے پورے ضلع خضدارکا ایک واحد ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال ہے وہ بھی عدم توجہی کاشکار ہوکرکھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہے مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ہسپتال بھوت بنگلے کا منظر پیش کرنے لگا ہے، مریضوں ہسپتال سے ایک پیناڈول کی گولی اور ایک سرنج تک میسر نہیں ہے اس دورمہنگائی میں غریب مریض بازار سے دوائیاں خریدی جاتی ہے ، محکمہ صحت کی جانب سے دوائیوں کے کوٹے کو بڑھایا جائے ایک سروے کے مطابق ضلع کا واحد ہسپتال لاوارث ہے یہاں کے عوامی نمائندگان صرف بینک بیلنس بڑھانے کی چکر میں لگی ہوئی ہے ہسپتال تباہی کے دہانے پرلاکھڑا ہے ایک طرف علاج ومعالجہ کی سہولتیں ناپید ہیں دوسری طرف صفائی کی صورتحال ناقص اورصحت مند انسان ہسپتال کے اندرجاکر بدبو گندگی کی وجہ سے مریض بن جاتے ہیں ۔ہسپتال بھوت بنگلے کا منظر پیش کرنے لگا ہے ان پر کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے ہسپتال کے متعلق عوامی حلقوں کاکہنا ہے کہ محکمہ صحت خضدار کے واحد ہسپتال میں سہولتیں فراہم کی جائیں ہسپتال میں ایکسرے مشین، الٹراساو¿نڈ، ملیریا اور ٹائیفائیڈ کے ٹیسٹ بھی غریب عوام پرائیویٹ لیبارٹریوں سے کروا رہے ہیں، ہسپتال کا عملہ صرف مفت تنخواہیں وصول کر رہا ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ، عوامی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان، سیکریٹری صحت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع خضدار کےواحد ہسپتال پر توجہ دیکر عوام کو صحت کی بنیادی سہولتیں اور علاج ومعالجہ کے تمام ضروری آلات مہیا کی جائیں تاکہ غریب عوام اس دورمہنگائی میں دیگر شہروں کوئٹہ اورکراچی کے جانے کی ٹھوکریں کھانے سے بچ کراپنے علاقے میں علاج کرواسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں