ہمارے بلوچ بھائی ناسمجھی کاشکارہیں‘ جسٹس وجیہ الدین

کراچی:عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ہم نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں تو ملک بہت پیچھے رہ جائے گا، اب جبکہ امریکہ افغانستان سے فارغ ہوکر جانے کی تیاری کر رہا ہے تو اس خطے میں نت نئے تعمیری و ترقیاتی عوامل پر پیشرفت ہو رہی ہیں۔ ایک طرف تو ہمارے بلوچ بھائی اپنی ناسمجھی کا شکار ہیں۔ خود کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملک کو بھی۔ دوسری طرف شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پشتونوں کے بھی ایک گروپ کا یہی حال ہے۔ ایک طرف ترقیاں اور ڈویلپمنٹس ایران اور دوسری طرف وسط ایشیا اور بھارت میں ہوں گے۔ اور ہم اپنا سا منہ لے کر رہ جائیں گے۔ لہٰذا ہمارے بھائیوں خصوصاً بلوچ اور پشتون بھائیوں کو ان معاملات کو سمجھنا چاہیے کہ خود اپنا اتنا بڑا نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھائی چارے کی پالیسی اختیار کرنی چاہئے۔ انگیز نے ان کے ساتھ یہی پالیسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ انگیز کے زمانے میں بلوچستان وہ واحد خطہ تھا جہاں سے کوئی محصولات حاصل نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ انگریز خود وہاں پیسہ لگایا کرتا تھا۔ یہی حالت علاقہ غیر یا قبائلی علاقوں میں بھی انگریز پیسہ لگایا کرتا تھا۔ تو ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کچھ اپنی تاریخ سے سبق سکھنا چاہئے۔ اور بھارت یہاں (بلوچستان اور خیبر پختون) میں جو ریشہ دوانیاں کر رہا ہے، اس کا علاج صرف ”پالیسی آف اپیسمنٹ“ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں