تربت میں لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر میڈیکل اسٹوروں پر چھاپے، ڈرگ ایسوسی ایشن کا احتجاج
تربت (نمائندہ انتخاب) اسسٹنٹ کمشنر تربت کا ڈرگ لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر میڈیکل اسٹوروں پر چھاپہ، کام کرنے والوں کو پکڑ کر ایف آئی آر درج کا حکم دے دیا، ڈرگ ایسوسی ایشن کے رہنما¶ں کی اے سی آفس کے سامنے احتجاج، سنیئر ڈرگ انسپکٹر نے اے سی کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا،اسسٹنٹ کمشنر تربت حسیب شجاع نے منگل کو اپنی ٹیم کے ہمراہ تربت میں مختلف میڈیکل اسٹوروں پر چھاپہ مار کر لائسنس کی میعاد ختم ہونے پر تین میڈیکل اسٹوروں میں کام کرنے والوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دے دیا اس واقعہ کے خلاف ڈرگ ایسوسی ایشن کے رہنما¶ں اور میڈیکل اسٹور مالکان نے اے سی آفس جاکر معاملے کی نوعیت معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن اسسٹنٹ کمشنر اپنے دفتر میں موجود نہ تھے ، جس پر ان سے موبائل فون پر رابطہ کی کوشش کی گئی مگر ان کے بقول اے سی نے نمبر بند کردیاہے جبکہ اے سی آفس کے عملے کے مطابق اے سی تربت میڈیکل اسٹور والوں کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دے کر خود آرام کرنے چلے گئے ،اے سی آفس کے سامنے بڑی تعداد میں جمع میڈیکل اسٹورز مالکان نے کہا کہ اے سی کا رویہ غنڈہ گردی جیسا ہے ہمارے پاس ڈرگ لائسنس موجود ہے لیکن تجدید کے لیے کوئٹہ میں سسٹم کی اپ گریڈیشن اور بائیو میٹرک سسٹم کے باعث وقت لگتا ہے ہمارے پاس تجدید کے لیے جمع شدہ چالان موجود ہیں لیکن اے سی نے انہیں دیکھ کر صرف نظر کردیا ، انہوں نے کہاکہ وہ کوئی غیر دھندہ نہیں کررہے بلکہ قانونی طریقہ اپناکر میڈیکل اسٹور چلارہے ہیں اگر قانون میں سقم کے باعث لائسنس کی تجدید میں وقت لگتا ہے تو اے سی تربت جاکر ڈی جی صحت یا متعلقہ اتھارٹی کو جواب دہ ٹہرائیں انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر کو یہ قانونی اختیار حاصل نہیں کہ وہ لائسنس کے بہانے میڈیکل اسٹور مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرے ان کا یہ عمل غیر قانونی ہے جس کے خلاف عدالت میں رجوع کریں گے، ہم نے ان کے آفس جاکر معلومات لینے کی کوشش تو وہ اپنانمبر بند کرکے آرام کرنے چلے گئے تھے یہ ایک سرکاری افسر کے غیرذمہ داری کی انتہا ہے حالانکہ اس کارروائی میں اے سی نے محکمہ صحت اور ڈرگ انسپکٹر کو نہ صرف ساتھ نہیں لیا بلکہ ڈپٹی کمشنر کیچ کو بھی اطلاع اور اعتماد میں نہیں لیا،اس موقع پر سنیئر ڈرگ انسپکٹر کیچ محمد اکرم بلوچ نے میڈیکل اسٹور مالکان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ اسسٹنٹ کمشنر تربت نے میڈیکل اسٹورز کے خلاف کارروائی کرکے اپنے اختیارات کا ناجائز اور غلط استعمال کیا ہے اور وہ اس کے بعد جاکر گھر میں سوگئے ہیں جو انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے ، سنیئر ڈرگ انسپکٹر محمد اکرم نے کہا کہ یہ کام ضلع میں موجود ڈرگ انسپکٹر کا ہے مگر اے سی نے نا اس کارروائی میں ڈرگ انسپکٹر کو اعتماد میں لیا ناہی محکمہ صحت کو ایسے کسی کارروائی کے بارے میں اطلاع دی، سنیئر ڈرگ انسپکٹر نے کہا کہ بلوچستان میں ڈرگ لائسنس کے طریقہ کار میں جدت لانے کے سبب اب ڈیجٹلائز سسٹم میں فنگر پرنٹ لازمی ہے پورے صوبہ 500 اور کیچ سے 40 سے زائد لائسنس مجاز اتھارٹی کو تجدید کے لیے بھیج دئیے گئے جنہیں کافی عرصہ ہوا ہے مگر وہ ابھی تک واپس نہیں بھیجے گئے ہیں کیوں کہ ڈرگ لائسنس کے سسٹم میں جدت کے باعث چھان بین کی وجہ سے روزانہ کم لائسنس ایشو کیے جارہے ہیں جبکہ ڈرگ اسٹور مالکان نے تجدید کے لیے چالان قانونی طریقہ کار کے مطابق جمع کیے ہیں اب ان کے خلاف کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے، انہوں نے کہا کہ میرے پاس کیچ کے بیشتر میڈیکل اسٹور مالکان کے فارم موجود ہیں اور انہوں نے اپنے چالان بھی جمع کیے ہیں ان کے لائسنس تجدید ہوکر انہیں مل جائیں گے، اسسٹنٹ کمشنر تربت کی اس غیر قانونی عمل کے متعلق ڈی جی ہیلتھ کو اطلاع دی گئی ہے، کیچ کے عوامی حلقوں نے اسسٹنٹ کمشنر تربت کی جانب سے بلاجواز طورپر میڈیکل اسٹور والوں کے خلاف کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اے سی تربت غیر ضروری معاملات میں الجھنے کے بجائے اپنے فرائض منصبی صحیح معنوں میں سرانجام دیں ۔


