افغانستان چینی باشندوں پر حملے میں ملوث ہوا تو پاکستان معاملہ اٹھائے گا، دفتر خارجہ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان دفتر خارجہ نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم افغان انتطامیہ سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لیں۔بشام میں چینی باشندوں پر حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ اس معاملے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کررہے ہیں، جونہی تحقیقات مکمل ہو جائیں گی میڈیا کو آگاہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ داسو حملے کے بعد چین کے ایک سیکیورٹی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، اس وفد کی سربراہی چین کی وزارت خارجہ نے کی ، اس دورے کا مقصد چین کے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا کہ پاکستان کا انتہا پسندی کے حوالے سے مو¿قف واضح ہے ، پاکستان ہر قسم کی انتہا پسندی کو ختم کرنے کا خواہاں ہے، اگر افغانستان اس حملے میں ملوث پایا گیا تو پاکستان یہ معاملہ ان کے ساتھ اٹھائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ چین کے حوالے سے اب تک تاریخوں پر فیصلہ نہیں ہوا۔پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا کہ پاکستان اور ایران نے تمام باہمی رابطہ چینلز کو بحال کر لیا ہے، تجارت کے حوالے سے پاکستان اور ایران میں گہرا تعاون ہے، ابھی ایران کے صدر کے دورے کے حوالے سے حتمی تاریخ نہیں دے سکتے، تاہم ایرانی صدر کے جلد دورے کی توقع ہے۔انہوں نے دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم متاثرین کے اہل خانہ، عوام اور ایران کی حکومت کے تئیں اپنی گہری تعزیت پیش کرتے ہیں، یہ حملہ شام کی خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے اور اس کے استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔


