نیشنل بینک ڈھاڈر میں تین روز سے کیش کی عدم فراہمی، عید ماند پڑنے کا خدشہ ہے،عوام

بولان(نامہ نگار/رئیس فرحان جمالی)ڈھاڈر کے کاروباری اور سیاسی حلقوں نے نیشنل بینک ڈھاڈر کی انتظامیہ کی طرف سے گزشتہ تین روز سے کیش کی عدم موجودگی میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل بینک ڈھاڈر میں بیشتر ماہ کیش نہ ہونے سے یہاں کی تمام مکتبہ سے تعلق رکھنے والی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے عوام نے کئی بار اس حوالے سے نشاہدہی کروا چکے ہیں کہ نیشنل بنک ڈھاڈر کا دائرہ کار حیثیت کو بڑھایا جائے اس کی بلڈنگ ،عملہ اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں ملازمین پنشنرز تاجر اور دیگر سیاسی سماجی حلقوں نے کہا کہ نیشنل بینک ڈھاڈر کا سب سے پ±رانا بینک ہے اس بینک میں کیش کی کمی آیے مہینے بڑھتی جارہی ہے بینک کے تنخواہیں دار ملازمین پنشنرز کھاتہ داروں کو کیش نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہوتا آرہا ہے کئی بار عید کی خوشیوں کو بھی مانند کیا گیا ہے اس بار بھی شہریوں کی عیدالفطر پھیکی ہونے والی ہے گزشتہ تین روز سے بنک میں کیش کی عدم فراہمی ہے بلوچستان کے نیشنل بنک ریجنل مینجر کی جانب سے کوئی بروقت اقدامات نہیں آٹھائے گئے ہیں گذشتہ کئی سالوں سے نیشنل بینک ڈھاڈر کیش کی کمی کا رونا روتا آرہا ہےنیشنل بنک ڈھاڈر ملازمین پنشنرز تاجر اوراپنے کھاتہ داروں کو بھی کیش نہیں دے پارہا ہے دور درراز مقامات سے تنخواہوں ،بلوں اور دیگر چیکوں کو کیش کرنے کے لئے آنے والے لوگ تین دنوں سے خوار ہوکر پھر رہے ہیں عید الفطر قریب آچکی ہیں لوگوں کے گھروں میں راشن ختم ہوچکا ہے بچوں کی عید کی خریداری ادھوری پڑی ہوئی ہے ملازمین پنشنرز تاجر کاروباری اور سیاسی حلقوں کو اس وجہ سے پریشانی کا سامنا ہو رہا ہے ڈھاڈر کے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل بینک ڈھاڈر کو حسب سابق کیش فراہم کیا جائے اور ڈھاڈر برانچ کو عوام کی خدمت کے قابل بنایا جائے سینکڑوں سرکاری و نیم سرکاری ملازمین پنشنرز کاروباری تاجر حضرات عید الفطر کی خوشیوں سے محروم رہنے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں