ناقابل یقین
تحریر: انور ساجدی
مولانا صاحب کے الزامات ناقابل یقین مخیر العقول اور سمجھ سے بالاتر ہیں۔ مثال کے طور پر انہوںنے پشین میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8فروری کے انتخابات بیچے اور خریدے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ بلوچستان اسبلی کی بولی 70ارب میں لگی یا 80ارب میں۔ مولانا نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ بلوچستان اسمبلی کو فروخت کرنے والے کون اور خریدنے والے کون تھے۔ اگر ان کی مراد آصف علی زرداری کی جانب ہے تو عقل نہیں مانتی کہ زرداری بلوچستان حکومت کے نصف حصہ کی اتنی بڑی رقم داﺅ پر لگا سکتے ہیں۔ اگر زرداری نے 17نشستیں خریدیں تو ن لیگ کو کیسے اتنی نشستیں مفت میں مل گئیں۔ اگر ان کا اشارہ میر سرفراز بگٹی کی طرف ہے تو بظاہر ان کی مالی پوزیشن اتنی مستحکم نہیں۔ 80ارب روپے کو چھوٹے انتخابی گوشواروں کے مطابق ان کی دولت پانچ ہزار بھیڑ بکریاں ہیں۔ ان کی مالیت بھی کروڑوں میں ہوگی۔ مولانا کو چاہئے کہ وہ کھل کر بتائیں کہ اسمبلیوں اور حکومتوں کی خریدوفروخت میں کون سے عناصر ملوث ہیں اور ان کے مقاصد کیا تھے۔ اسی طرح مولانا یہ بھی بتا دیں کہ ان کی جماعت کو سابقہ نشستوں سے کتنی کم ملی ہیں۔ اگر اعداد و شمار اکٹھے کئے جائیں تو گزشتہ انتخابات میں جے یو آئی کی نشستیں کم و بیش اتنی تھیں جو اس وقت ہیں۔ البتہ صوبہ پشتونخواہ میں ان کی جماعت کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ڈی آئی خان میں مسلسل دوسری بار اپنی آبائی نشست بھی ہار گئے تاہم کم نشستوں کے باوجود ان کی دوسری پوزیشن ہے۔ نا جانے مولانا اتنے سوختہ کیوں ہیں۔ انہیں کس نے بتایا تھا کہ وہ تین صوبوں بلوچستان، پشتونخواہ اور سندھ میں حکومت بنانے جارہے ہیں۔ 2002 میں جب ایم ایم اے ایک بڑا الائنس تھا اور اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی مکمل حمایت حاصل تھی تب بھی ان کی حکومت دو صوبوں تک محدود تھی اس زمانے میں ایم ایم اے کو ” ملا ملٹری الائنس“ کا نام دیا گیا تھا کیونکہ مشرف اور مولانا کے مفادات مشترکہ تھے۔ مثلاً پرویز مشرف کو 12اکتوبر 1999 کے عمل پر آئین کی دفعہ 6 سے بچنا تھا اور ایم ایم اے کو دو صوبوں اور مرکز میں شراکت داری درکار تھی۔ الائنس کرکے دونوں نے اپنے مقاصد پورے کئے۔ جنرل پرویز مشرف سے فاٹا اور افغانستان میں ڈرون حملوں کی اجازت کا معاہدہ بھی ہوا تھا جو آج تک مخفی رکھا گیا ہے۔
بہر حال 8 فروری کے انتخابات کافی حد تک متنازعہ اور مشکوک ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی اور مولانا کو یہ شکوہ ہے کہ ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا جبکہ ن لیگ کا نواز شریف دھڑا بھی شاکی ہے اور اس کے شکست خوردہ لیڈر میاں لطیف نے تو یہ الزام لگایا ہے کہ شیخوپورہ کی 6 قومی اسمبلی کی نشستوں کو ایک ارب فی نشست فروخت کیا گیا۔ شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کی کم بخت نشستوں نے ہی نواز شریف کو چوتھی بار وزیراعظم بننے سے روک دیا تھا۔ اب جبکہ تمام حکومتیں بن چکی ہیں مولانا اور پی ٹی آئی بیک زبان دھاندلی نہیں سیٹوں کی نیلامی کا رونا مل کر رورہے ہیں۔ مولانا نے ایک عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ موجودہ جعلی حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔ اگر اس نکتہ پر پی ٹی آئی اور مولانا متفق ہیں تو انہیں مل کر تحریک کا آغاز کرنا چاہئے تھے لیکن ابتدائی رابطوں کے باوجود ان کے درمیان کوئی ایکتا نہ بن سکا۔ ابھی اسد قیصر مولانا سے اتحاد کی گفت و شنید کررہے تھے کہ پختونخواہ کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس ممکنہ اتحاد پر بجلی گرادی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مولانا اپنی قیمت بڑھا رہے ہیں اور ان کی قیمت کشمیر کمیٹی کی سربراہی ہے۔ جن دن ان کی بات مان لی جائے تو وہ بکنے میں دیر نہیں کریں گے۔ علی امین گنڈا پور کو یہ بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی اس نے جان بوجھ کر دو جماعتوں کے درمیان نزدیک آنے کی کوششوں کو سبوتاژ کردیا۔ اس کے پیچھے بھی ضرور کوئی راز اور کوئی مقصد ہوگا۔ گنڈا پور سلطان راہی کی طرح بڑھکیں مارنے کے باوجود کمزور وزیراعلیٰ ہیں اور جب سے وہ آئے ہیں ان کے صوبہ میں اندرونی و بیرونی دراندازی اور دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔ ان کی کمزوری کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی حکومت ان کے مارشلائی مشیر بیرسٹر سیف چلا رہے ہیں اور وزیراعلیٰ کا کردار گفتند و نشستند و برخاستند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ صوبہ کی مالی حالت بھی بہت خراب ہے۔ یہ صوبہ عمران خان کے دور میں ہی دیوالیہ ہوگیا تھا اس کی وجہ بی آر ٹی کا ناکام اور میگا منصوبہ کے علاوہ کھربوں روپے کے حامل سونامی ٹری کا جعلی منصوبے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ نے پھوں پھاں بند نہ کی تو آئندہ ماہ سے سرکاری ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہ کے پیسے نہیں ہوں گے کیونکہ خزانہ خالی ہے۔ علی امین نے جب کور کمانڈر ہاﺅس میں کابینہ کا اجلاس رکھا تھا تو ان کا کردار مشکوک اور دوغلا نظر آیا لیکن عمران خان نے اس پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔
حال ہی میں پارلیمنٹ کا جو مشترکہ اجلاس ہوا جس سے صدر زرداری نے خطاب کیا۔ پشتونخواہ کے وزیراعلیٰ نے اس میں شرکت نہیں کی حتیٰ کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف بھی نہیں آئیں، یہ بات محسوس کی گئی کہ تینوں سروسز چیف بھی موجود نہیں تھے جوکہ روایتی طور پر صدر کے خطاب کے موقع پر موجود ہوتے ہیں۔ دارالحکومت کے وی لاگرز کے مطابق اس دن پی ٹی آئی نے پلان بنایا تھا کہ وہ اجلاس میں شدید احتجاج کرے گی اور اس کا رخ اہم شخصیات کی طرف موڑ دے گی۔ مریم نواز کو بھی پی ٹی آئی کے قہر آلود احتجاج اور بدتمیزی کا ڈر تھا اس لئے اس نے اجلاس میں آنے سے گریز کیا۔ اسی طرح اگر پی ٹی آئی کے آﺅٹ آف کنٹرول ارکان جنہوں نے آصف زرداری اور شہباز شریف کی بے عزتی کردی اگر وہ یہی حرکت اہم شخصیات کے ساتھ کرتے تو کافی بدمزگی پیدا ہوجاتی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اجلاس کے بعد کہا کہ پارلیمنٹ جعلی ہے اور آصف علی زرداری منتخب صدر نہیں ہیں۔ اگر وہ یہی بات مانتے ہیں تو انہیں استعفیٰ دے کر اسمبلیوں سے باہر آنا چاہئے جیسے مولانا نے کہا ہے کہ اب فیصلہ ایوانوں میں نہیں میدانوں میں ہوگا۔ اگر پی ٹی آئی اور مولانا مل کر میدان کو میدان جنگ میں تبدیل کردیں تو حکومت اور اسمبلیوں کا چلنا مشکل ہوجائے گا لیکن دونوں مصلحت سے کام لے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا باہر رویہ اور ہے جبکہ جیل کے اندر عمران کا رویہ الگ ہے۔ وہ مسلسل خفیہ مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ از سر نو انتخابات کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کی ہتھیائی گئی 60 نشستیں واپس کی جائیں اور ان کی جماعت کو حکومت سازی کا موقع دیا جائے۔ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کس طرح دیگر جماعتوں کی جیتی اور ہتھیائی گئی 60 نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں۔ اس مسئلہ کا حل از سر نو انتخابات ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے تو وہ 160 نشستیں لے کر حکومت بنانے میں پوزیشن میں آجائے گی۔ اسی طرح مولانا کے مطالبہ کا حل بھی الیکشن ہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ ایک لاکھ بار الیکشن ہوجائیں جے یو آئی کی اتنی پوزیشن نہیں کہ سارے ملک میں حکومت بنالے۔ مولانا کے جو تیور ہیں اور ان کا جو غصہ ہے اس کی وجہ اس کے دو مشیروں کی غلط بریفنگ اور غلط اعداد و شمار ہیں۔ ان کے صوبہ سندھ کے صدر مولانا راشد محمود سومرو نہ جانے کہاں سے یہ نوید لائے ہیں کہ اگر آزادانہ انتخابات ہوتے تو جے یو آئی سندھ میں سویپ کر جاتی اور پیپلز پارٹی کی بجائے حکومت بنا ڈالتی۔ اسی طرح بلوچستان میں مولانا کے مشیر حافظ خلیل احمد سارنگزئی نے یہ غلط بریفنگ دی ہے کہ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو حکومت سو فیصد جے یو آئی کی بنتی۔ غالباً ایسا ہی مشورہ مولانا کو ان کے بااعتماد سیکریٹری مسٹر بلوچ نے پشتونخواہ کے بارے میں بھی دیا ہوگا۔ ایسے وقت میں جبکہ امریکہ کوشش کررہا ہے کہ چینی سرمایہ کاری کے مقابلے میں سعودی عرب کو میدان میں اتارا جائے۔ شہباز حکومت کو گرانے کی توجیح واضح طور پر سمجھ میں آگئی ہے۔ حالانکہ سعودی عرب نے فی الحال تو کچھ وعدے کئے ہیں اور معلوم نہیں کہ بیل منڈھے چڑھ سکے گی کہ نہیں۔ کیونکہ جو معاہدے تحریر ہوئے ہیں ان پر دستخط کراﺅن پرنس ایم بی ایس کریں گے۔ وہ اتنے مصروف ہیں کہ شاید انہیں پاکستان آنے یا شہباز شریف کو سعودی عرب بلانے کا موقع ملے۔ اگر سعودی عرب نے سرمایہ کاری کردی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان نے امریکی حکومت کو دوبارہ سختی سے جوائن کرلیا ہے جس کے بعد سی پیک کے دوسرے مرحلے کی نوبت نہیں آئے گی۔ اسی طرح ایران کے صدر کا دورہ بھی بے سود ہوجائے گا۔ کیونکہ معاشی پابندیوں کے پیش نظر پاکستان 18 ارب ڈالر ہرجانے کا رسک تو لے گا لیکن گیس پائپ لائن تعمیر کرنے کی جسارت نہےں کرے گا۔ ایک خیال یہ ہے کہ سعودی سرمایہ کاری رک گئی تو شہباز، زرداری حکومت 6 ماہ سے زیادہ عرصہ نہیںچل پائے گی جس کے بعد نئے سیاسی، معاشی اور انتخابی بحران سر اٹھائیں گے۔


