بین الافغان مذاکرات مہینوں نہیں، ہفتوں میں شروع ہو سکتے ہیں: عمر داد زئی

کابل:پاکستان کے لیے افغانستان کے نمائندہ خصوصی محمد عمر داد زئی نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں شروع ہو سکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق نمائندہ خصوصی محمد عمر داد زئی کا کہنا تھا کہ جب فریقین مذاکرات کی میز پر آئیں گے تو صورتِ حال کا اندازہ ہو گا کہ معاملات حل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے۔محمد عمر داد زئی نے بتایا کہ قیدیوں کی رہائی طالبان کا سب سے اہم مطالبہ تھا جو کہ اس مطالبے پر عمل در آمد آخری مراحل میں ہے۔ان کے مطابق کچھ طالبان قیدیوں کی رہائی ابھی نہیں ہوئی۔ ان کی رہائی پر بھی بات چیت جاری ہے۔ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان 90 فی صد معاملات حل ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں دونوں فریقین کو پہلے آسان اہداف پر بات چیت کرنی ہو گی تاکہ امن مذاکرات مثبت جانب بڑھ سکیں۔عمر داد زئی کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے بعد امن مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔عمر داد زئی بھی افغانستان کے مسائل کا حل مذاکرات کو ہی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تب ہی ممکن ہو گا جب فریقین ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ جائیں گے اور تمام امور پر بات چیت کا آغاز ہو جائے گا۔افغان نمائندہ خصوصی کے مطابق مذاکرات کچھ لو، کچھ دو کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے لچک کا مظاہرہ بے حد ضروری ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام مسائل حل طلب ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ بین الافغان مذاکرات میں تمام فریقین معنی خیز نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔محمد عمر داد زئی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو دہشت گردوں کے خلاف مل کر لڑنا چاہیے۔ ہمسایہ ممالک دوستی کے فروغ کے لیے کام کریں کیوں کہ یہی ان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔عمر داد زئی کے مطابق یہ ایک اچھا عمل ہے اور سڑکوں کی بہتری سے نہ صرف پاکستان کے ساتھ تجارت میں بہتری آئے گی بلکہ افغانستان بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)سے استفادہ کر سکے گا۔ان کے بقول افغانستان میں اس وقت جنگ جاری ہے تاہم جیسے ہی یہ سلسلہ ختم ہو گا وہاں بھی ترقیاتی کام شروع ہو جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے پاکستان اور ایران کے ساتھ ہمسایہ ممالک ہونے کی وجہ سے دیرینہ تعلقات ہیں جب کہ بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں۔عمر داد زئی کے مطابق افغانستان میں قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹیں ضرور ہیں تاہم وہ پر امید ہیں کہ کئی دہائیوں سے جاری تشدد کو ختم کرنے میں وہ اپنا کردار ادا کر پائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں