مکران سے کوئٹہ و کراچی جانے والی بسیں مسافروں سے زیادہ مال و تیل برداری کو ترجیح دیتے ہیں، عو امی حلقے
گوادر (این این آئی )مکران میں مسافر بسوں کی چیک اینڈ بیلنس میں حکومتی اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی،مکران سے کوئٹہ و کراچی جانے والی بسیں مسافر برادر ی سے زیادہ مال و تیل برداری کو ترجیح دیتے ہیں،ہزاروں انسانی قیمتی جانیں اسی روش کے سبب لقمہ اجل بن گئے،ہائیویز پر قائم چیک پوسٹوں کی ترجیحات مسافروں کی سیفتی نہیں بلکہ مختلف ہیں،عدم توجہی کے باعث گوادر و تربت سے کراچی و کوئٹہ روٹس پر ہرسال ہزاروں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور کسی کو پرواہ نہیں۔عوامی حلقے ۔تفصیلات کے مطابق تربت ٹو کوئٹہ بس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر مکران کے مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے کر تے ہو ئے کہا مکران پاکستا ن کا واحد ڈویژن ہے جہاں ٹریفک حادثات کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جس کا بنیادی سبب غفلت‘ لاپرواہی اور لاقانونیت ہے۔ تیز رفتاری بھی ایک سبب ہے لیکن سب سے بڑی وجہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ہیں جن کی تربیت و چیک اینڈ بیلنس کے لیئے کسی قسم کا میکنزم موجود نہیں۔ ان کے مطابق موٹروے پولیس حکومت اور انتظامیہ کو بھی ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے جس کی ترجیحات مختلف ہیں اور عدم توجہی کے باعث گوادر و تربت سے کراچی و کوئٹہ روٹس پر ہرسال ہزاروں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور کسی کو پرواہ نہیں۔ ان کے مطابق مکران میں قائم بیشتر ٹرانسپورٹ بس مسافر بردار کم بلکہ مال بردار و تیل بردار زیادہ لگتے ہیں جس کے سبب حادثات کا رونما ہونا معمول بن چکا ہے۔ان کے مطابق گزشتہ ادوار میں گڈانی کا خوفناک حادثہ بھی حکام اور حکمرانوں کی لاتعلقی کا باعث ہے جس کے سبب 35انسانی جانیں ضیاع ہوچکی ہیں پر المیہ یہ ہے کہ متعلقہ حکام اور اداروں کو شاہراہوں پر بہنے والے انسانی خون کی کوئی پرواہ نہیں۔حکومت کے کئی اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی جنبکے خلاف اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو حکومت جاگ جاتی ہے اور حکمرانوں کی جانب سے احکامات بھی جاری ہوجاتے ہیں لیکن چند دن گزرنے کے بعد سب بھول بھال جاتے ہیں اور پھر کوئی حادثہ ہوجاتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ یسے حادثات میں غفلت برتنے والے ٹرانسپورٹر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے کیوں کہ اکثر ٹرانسپورٹرز حفاظتی اقدامات میں غفلت کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔دریں اثناء ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مکران ٹو کراچی و کوئٹہ روٹس پر ٹریفک کے حادثات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔


