نان فائلرز لندن، پیرس، تھائی لینڈ نہیں جاسکیں گے، عمرہ اور حج پر جانے کی اجازت ہوگی

اسلام آباد (آئی این پی ) وفاقی حکومت نے انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ نہ ہونے والے تاجروں اور ٹیکس دہندگان کے بارے میں ایف بی آرکو معلومات فراہم نہ کرنے والے بینک افسران کو جرمانے ا ورایک سال تک کی قید کی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ میڈیارپورٹ کے مطابق ٹیکس دہندگان کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی پر ایک سال تک کیلیے جیل بھجوانے کا قانون متعارف کروایا جارہا ہے جس کیلیے فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔مجوزہ ترامیم میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بینک ،کمپنی یا ایسوسی ایشن آف پرسنز ٹیکس دہندگان کے بارے میں ایف بی آر کو معلومات فراہم نہیں کرتے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور متعلقہ افسر پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے اور انہیں ایک سال تک قید بھی دی جاسکتی ہے اس کے علاوہ دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔اسی طرح ایسے تاجر جنہیں سیکشن 99 بی کے تحت انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا ہوتا ہے اور رجسٹریشن نہیں کرواتے تو ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی جس کے تحت ان پر جرمانے اور چھ ماہ تک قید کی سزائیں دی جاسکیں گی، اس کے علاوہ جرمانہ اور قید دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جاسکیں گی۔علاوہ ازیں نان فائلرز نیشنل ٹیکس نمبر کے بغیر لندن ، پیرس اور تھائی لینڈ نہیں جا سکیں گے، صرف عمرہ اور حج پر جانے کی اجازت ہوگی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وفاقی حکومت نے بجٹ میں نان فائلرز کے بیرون ملک سفر پرپابندی کی تجویز دی۔ایف بی آرکے چیئرمین نے کہا کہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والے بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے تاہم جمعرات کووزیر خزانہ محمداورنگزیب نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ٹیکس نمبر کے بغیر لندن ، پیرس اور تھائی لینڈ نہیں جا سکیں گے،نان فائلرز کو صرف عمرہ اور حج پر جانے کی اجازت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کی اختراع سمجھ نہیں آتی، ہمیں نان فائلرز کی ٹرم کو ختم کرنا ہے، ٹیکس کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلایزیشن کی جائے گی، ٹیکس بیس بڑھانا ہے ،ساڑھے 9فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح پر ملک نہیں چل سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں