غزہ میں جنگ بندی بہت قریب ہے،امریکی وزیر خارجہ

نیویارک (صباح نیوز) امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بار پھر امید دلائی ہے کہ ‘غزہ میں جنگ بندی بہت قریب ہے۔بلنکن ایسپین سیکیورٹی فورم سے ‘کولوریڈو’ میں خطاب کر تے ہوئے ان کا کہنا تھا ‘حماس اور اسرائیل صدر جو بائیڈن کے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ منصوبے پر اتفاق کر چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک طویل عرصے سے سفارتی سطح پر کوششیں جاری تھیں۔ تاہم کچھ مسائل ابھی حل کرنے کے ہیں۔ ‘واضح رہے اس جنگ کو اسرائیلی فتح میں تبدیل کرنے کے لیے امریکہ نے ایک اسرائیلی اتحادی کے طور پر حد سے زیادہ اسرائیلی کی مدد کی ہے۔ سفارتی میدان اور جنگی مدد کے حوالے سے امریکہ اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا ہے۔ حتی کہ صدر جو بائیڈن اور ان کی جماعت کو اسی کی اپنے ملک میں بھاری سیاسی قیمت اور دنیا بھر میں اخلاقی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔تاہم اب امریکہ حکومت نے جنگ بندی کو اپنا ہدف ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے اور جن صد جو بائیڈن کے زیر قیادت امریکہ نے تین بار جنگ بندی کی قرار دادوں کو سلامتی کونسل میں ویٹو کیا تھا اب سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر جنگ بندی کی بات کر رہا ہے۔بلنکن نے امریکی حاضرین کو زیادہ امیدا دلانے کے لیے اور اپنی کوششوں کے بارے میں اطمینان دلانے کے لیے کہا’مجھے یقین ہے کہ ہم دس گز والی لائن کے اندر داخل ہو چکے ہیں اور گول لائن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب معاہدہ ہو گا جنگ بندی ہو گی اور یرغمالی اپنے گھروں کو جا سکیں گے۔ معاملات کو ایک پائیدار امن اور استحکام کے ٹریک پر ڈال دیا گیا ہے۔’انہون نے مزید کہا ‘تاہم کچھ ایشوز کا طے کیا جانا باقی ہے ، انہیں طے کرنے کے لیے مزاکرات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم درمیان میں ہیں اور ٹھیک وہی کام کر رہے ہیں، جس کی ضرورت ہے۔’امریکی وزیر خارجہ نے یہ امیدیں ایسے وقت میں جگائی ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی کانگریس سے خطاب کے لیے امریکی پہنچنے والے ہیں۔ امریکہ نے انہیں اس خطاب کی دعوت چند ہفتے پہلے اس وقت دی تھی جب بین الاقوامی فوجداری عدالت سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر کے انہیں غزہ میں جنگی جرائم کی وجہ سے گرفتار کرلے گی۔نیتن یاہو نے بدھ کے روز کانگریس سے خطاب کرنا ہے۔۔ جبکہ اسرائیلی کینیسٹ میں بدھ کے روز ہی ان کی حکومت نے ایک قرار داد پیش کی اور بعد ازاں منطور کی جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کو مکمل انکار کیا گیا ہے۔ نیز اس موقع پر یہ اظہار بھی کیا گیا کہ حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور حماس پر دبا بڑھانے کے لیے بمباری اور حملے شدید تر رکھنے کی حکمت عملی بروئے کار رہے گی۔انٹونی بلنکن سے نیتن یاہو کے دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا’ امریکہ جنگ بندی معاہدے کو اختتامی مرحلے کی طرف چاہتا ہے۔ جنگ کے بعد کا بھی ایک منصوبہ ہے۔ امکان ہے کہ نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت اسی کے آس پاس ہو گی۔