جسٹس فاروق حیدر کی اسلام قبول کر کے شادی کرنیوالی لڑکی اور شوہر کوہراساں کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت سے معذرت

لاہور:لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے ننکانہ صاحب میں اسلام قبول کر کے شادی کرنے والی لڑکی اور اس کے شوہر کوہراساں کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔ مس جسٹس عالیہ نیلم کے رخصت پر ہونے کی بنا ء پر مسٹر جسٹس فاروق حیدر نے عائشہ اور حسن کی درخواست پر سماعت کی۔جسٹس فاروق حیدر نے سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی۔جسٹس فاروق حیدر نے نوٹ لکھا کہ ذاتی وجوہات کی بنا ء پر کیس کی سماعت نہیں کر سکتا
۔عدالت کے حکم پر عائشہ کو دارالامان سے سخت سکیورٹی میں بکتر بند گاڑی میں پیش کیا گیا۔عدالت نے عائشہ کی دارالامان میں ہونے والی تمام ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے۔ عدالت نے لو میرج کرنے والے جوڑے کے وکلا ء سے نادرا کا وہ سرٹیفکیٹ بھی طلب کر رکھا ہے جس سے دونوں کے بالغ ہونا ثابت ہو سکے۔ مس جسٹس عالیہ نیلم کے رخصت پر ہونے کی بنا ء پر مسٹر جسٹس فاروق حیدر نے عائشہ اور حسن کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ننکانہ کی سکھ لڑکی عائشہ کو مسلمان کر کے لاہور میں اس سے شادی کی۔شادی کرنے پر سکھوں کی جانب سے دھمکیاں اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔گورنر پنجاب نے صلح بھی کروائی لیکن اس کے بعد پھر مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔استدعا ہے کہ عدالت تحفظ اور سکیورٹی فراہم کرے۔#/s#

اپنا تبصرہ بھیجیں