اپوزیشن کے لئے نیا امتحان

لگتاہے ملکی سیاست میں ایک بار پھر قانون سازی کے نام پر کوئی تجربہ ہونے والا ہے۔حکومت کو ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔یہ کام حکومت تنہا نہیں کر سکتی۔قومی اسمبلی میں کسی طرح بل منظور کرالیاجائے تب بھی سینیٹ میں اس کے پاس اکثریت نہیں تاخیر ہو سکتی ہے۔ بدمزگی کے خطرات ہیں،حکومتی ساکھ متأثر ہو سکتی ہے۔اپوزیشن اس موقع سے استفادہ کی آرزومند ہے۔اس کے پاس سڑکوں پر اپنی قوت کا مظاہرہ کی صلاحیت نہیں رہی یا وہ اسے آزمانا نہیں چاہتی۔عام آدمی کا خیال ہے کہ جن حالات میں اپوزیشن کی قیادت پھنس گئی ہے ان کی موجودگی میں عوام سے سڑکوں پر آنے کی اپیل ممکن نہیں۔اس راہ میں بعض تحریری یا غیر تحریری معاہدے حائل ہیں۔سیاسی گلشن میں خاموشی بلاوجہ نہیں۔ٹوئٹر خاموش ہو جائیں تو عام آدمی کو یہ پیغام مل جاتا ہے کہ پس پردہ کچھ نہ کچھ ہورہا ہے۔تمام تر احتیاط کے باوجود ایک آدھ خبر یا جوڑ توڑ کے ماہر کسی سیاستدان کی تصویر لیک ہو جاتی ہے یا لیک کر دی جاتی ہے جس کا مقصد اپنے کارکنوں کو یہ دکھانا ہوتا ہے ابھی مقتدر حلقے ہم سے اتنے مایوس نہیں ہوئے جتنا کہ حکومت سمجھ رہی ہے۔دوسری جانب حکومت کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کانام لے کر لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر سکتی ہے، جیسا کہ پنجاب میں عیدالاضحیٰ کے اجتماعات کو محدود کرنے کے لئے حکومت نے اسپیشل لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔اپوزیشن جانتی ہے کہ قانون سازی کے دوران جو کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے اسی کو غنیمت سمجھا جائے۔فی الحال سانس لینے کی سہولت چاہیئے۔ زندہ رہے تو اقتدار کے بارے میں سوچا جا سکتاہے۔حکومت بھی پانچ روزہ ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے پانچ دن گراؤنڈ میں رہنا چاہتی ہے۔اسے رنز کی فکر نہیں۔ وکٹ بچانا اس کی اولین ترجیح ہے۔اپوزیشن کی خواہش ہے کہ حکومت کے لئے جس حد تک مشکلات پیدا کر سکتی ہے اس کے لئے تگ و دو جاری رکھے۔ اس دوران فاسٹ بولرز کی جگہ اپنے اسپنرز آزماتی رہے۔
عام آدمی سیاسی کھیل کے رموز سے 73سال کے دوران صرف اس قدر واقفیت حاصل کر سکا ہے کہ سیاست دان ابھی سیاسی بلوغت کو نہیں پہنچے ورنہ وہ برملا یہ اعتراف نہ کرتے کہ ہم نادان تھے غیر سیاسی قوتوں کے اشاروں پر وہ سب کچھ کرتے رہے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیئے تھا۔میثاق جمہوریت سیاست دان اپنی سیاسی بلوغت کی سند کے طور پر پیش کرتے ہیں۔لیکن وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ میثاق جمہوریت کے بعد بھی ان سے بچگانہ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ایک دوسرے کو ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ کہتے رہے ہیں۔انہیں یاد نہیں رہاکہ دنیا کے دیگر کھیلوں کی طرح سیاست میں بھی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس سے میثاق جمہوریت کی تقدیس بری طرح پامال ہو جائے گی۔قربتیں کم اور فاصلے مزید بڑھ جائیں گے۔ نفرتیں پہلے ہی دلوں میں موجود ہیں، ان کو بڑھاوا دینا بہت نقصان دہ ثابت ہوگا۔ میثاق جمہوریت کی آبرو سے کھیلنا ہر دو جانب سے غیر دانشمندانہ رویہ تھا۔بدقسمتی سے ملک کی دونوں پارٹیاں اس رویئے کی اصلاح کے لئے بروقت کچھ نہیں کر سکیں۔اور اب پلوں کے نیچے سے پانی بڑی مقدار میں بہہ چکا ہے۔اب کوئی معجزہ ہی اپوزیشن کو مشکلات کی اس دلدل سے نکال سکتا ہے مگر معجزات کبھی کبھار رونما ہوتے ہیں بعض اوقات دہائیاں گزر جاتی ہیں اور معجزات دیکھنے میں نہیں آتے۔شاعر نے اسی کیفیت کے بارے میں کہا تھا:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہمارے سیاست دانوں نے غلطیوں کے ارتکاب میں دہائیاں گزار دیں،ایک لمحے بھی یہ نہیں سوچا کہ جس شاخ پر آشیانہ ہے اسی کو کاٹنے کا انجام کیا ہوگا؟اب ماضی سے سبق لے کر مستقبل کی تیاری کرنے کا وقت ہے۔گزشتہ دہائیوں میں جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ان کاشمار کیا جائے ان غلطیوں سے پہنچنے والے نقصانات کی فہرست بنائی جائے انہیں سامنے رکھ کر ازالے کے ممکنہ راستے تلاش کئے جائیں۔جو ہو چکا، سو ہو چکا کے مصداق ماضی پر آنسو بہانے اور مرثیہ خوانی کی ضرورت نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی وہی چہرے نظر آتے ہیں جو ماضی کی حکومتوں میں موجود تھے۔مشیر خزانہ، وزیر خارجہ،وزیر دفاع،وزیر ہاؤسنگ،وزیر توانائی وغیرہ کے علاوہ بھی پرانی حکومتوں کے دستر خوان سے مستفید ہونے والے پہچانے جا سکتے ہیں۔اپوزیشن بہت کچھ کر سکتی ہے بشرطیکہ سیاسی فراست سے کام لے۔نئی غلطیوں سے اجتناب برتے۔قانون سازی حکومت سے زیادہ اپوزیشن کے لئے امتحان کا درجہ رکھتی ہے۔عوامی مفاد پر جو فریق سمجھوتہ کرے گا وہی اپنے پیروں پر کلہاڑی مارے گا۔دونوں فریق یاد رکھیں غلطی کی گنجائش دونوں کے پاس نہیں۔حکومت غلطیاں کرے گی،اپنا مستقبل خراب کرے گی۔ اپوزیشن کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں سوائے ہتھکڑی اور بیڑیوں کے مگر پا نے کے لئے سب کچھ ہے۔مشکل وقت ہے، بہادری سے کاٹ لیا جائے۔وقت کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتاہر پل اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔کرسی کتنی بھی مضبوط ہو آخر کرسی ہے اپنی جگہ قائم رہتی ہے مگر اس پربیٹھنے والے بدلتے رہتے ہیں۔یاران نکتہ داں کے لئے مرکزی نکتہ یہی ہے کہ جس فریق نے عوام کاعتماد نہ کھویا وہی سرخرو ہوگاجس سے اس معاملے میں چوک ہوگئی وہ منزل کھو بیٹھے گا۔دیکھنا ہے کس کے اعصاب اپنے حریف سے زیادہ مضبوط ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں