موجودہ حکومت میں کشمیر کا سودا ہوچکا، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکا جارہا، عثمان کاکڑ
پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سینیٹرعثمان خان کاکڑ نے چمن میں 30جولائی کو شہید ہونے والے 6شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں کشمیر کا سودا ہوچکا عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکا جارہاہے، تمام مسئلے پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے چاہئیں مگر یہاں پارلیمنٹ،آئین اور 22کروڑ عوام کا کوئی اہمیت ہے نہ ہی حیثیت،فیصلے باہر کرکے پارلیمنٹ کو ایک کاغذ بھجوا کرکہاجاتاہے کہ یہ پڑھاجائے،کشمیر کامسئلہ خلوص اور ایمانداری سے حل ہوناچاہیے مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمران نہ تو ایماندار ہے اور نہ ہی مخلص،مسئلہ کشمیرایشیاء بلخصوص جنوبی ایشیاء میں انگریز استعمار کاپیداکردہ ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹرعثمان کاکڑ نے کہاکہ سب سے پہلے چمن میں 30جولائی کو شہید ہونے والے 6شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ کشمیر ایک اہم مسئلہ جس کے حل کیلئے خلوص اور ایمانداری چاہیے جو بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں میں ناخلوص ہے اور نہ ہی ایمانداری،ایشیاء بلخصوص جنوبی ایشیاء میں انگریزی استعمار کاپیداکردہ مسئلہ ہے یہ تمام مسائل برطانیہ کے پیدا کئے ہیں اور 73سال سے ہم اس پر عمل پیرا ہے،جس کی وجہ سے کشمیری عوام مشکلات سے دوچار ہے ان مشکلات کاازالہ آج تک نہیں ہوسکاہے،سینیٹرعثمان کاکڑ نے کہاکہ کشمیراور کشمیر سے پہلے متحدہ ہندوستان پرانگریزوں کا راج تھا اور ہمیں بزورطاقت شامل کیاتھا،خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور دوسرے مسلسل انگریزوں کے خلاف جدوجہد کررہے تھے مگر بدقسمتی سے آج وہ محبت نہیں اور جس نے انگریزوں کا ساتھ دیا وہ محب وطن ہے 73سال میں یہ نتیجہ نکلاہے کشمیر اور کشمیری عوام کو خدا نے جنت نذیر وادی دی ہے جس میں ریسورسز،خوبصورتی دی ہے،73سالوں سے کشمیریوں پر ظلم وجبر کا سلسلہ جاری ہے،پچھلے سال اگست میں تمام اپوزیشن متفق تھی کہ مرکزی حکومت نے کشمیریوں کا سودا کیا،مگر سمجھ نہیں آرہا کہ اب کونسی تبدیلی آئی ہے کہ آج وہ بات نہیں کی جارہی جو گزشتہ اگست میں کہی جارہی تھی،کہاجارہاہے کہ ہمارے مسائل کاحل ہمارے دوست ٹرمپ کے ساتھ ہے لیکن پھر کہتے ہیں کہ ٹرمپ بھارت کادوست اور ہندوستان کا ساتھ دے رہاہے کوئی پیمانہ تو ہونا چاہیے موجودہ حکومت کے دور میں کشمیر کا سودا ہوچکا عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکا جارہاہے،عوام کا دھیان ہٹایاجارہاہے کہ گانوں سے کشمیر کوآزاد کیاجائیگا،اپوزیشن بھی قومی یکجہتی کے نام پر موجودہ حکومت کی ہرغلطی،ناروا عمل،غلط خارجہ پالیسی پر خاموش بلکہ اس کی حمایت کررہی ہے،اپوزیشن ناراض نہ ہووہ عملاََ کشمیریوں سے نہیں بلکہ موجودہ حکومت سے یکجہتی کررہی ہے،کشمیر کاایک ایک انچ زمین کشمیریوں کا ہے اور اس کی حق حاکمیت،اختیار اور اقتدار ہوناچاہیے،یہ حق خدا نے دیاہے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر نے دیاہے،سوال ہے کہ 73سال سے کشمیریوں سے بے وفائی ہورہی ہے ہمارے ادارے سندھیوں،بلوچوں اورپختونوں سے فارغ ہوجائے موجودہ حکومت فاٹا اور چمن کو فتح کرنے میں لگے ہوئے ہیں یہ مائنڈ سیٹ اور طریقہ کار ملک اور کشمیریوں کیلئے تباہی ہے،حکومت نے فیصلہ کرلیاہے اس میں کوئی شک نہیں جیسے رضا ربانی نے کہاکہ ہرمسئلہ کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لاناچاہے مگر یہاں پارلیمنٹ،قانون اور 22کروڑ عوام کا کوئی اہمیت ہے نہ ہی حیثیت،فیصلے باہر کرکے پارلیمنٹ کو ایک کاغذ بھجوا کرکہاجاتاہے کہ یہ پڑھاجائے۔مسئلہ کشمیر کو سلوگن کے طورپر شامل کرناچاہے نہ کہ سودے بازی کے طورپر۔


