کرم میں مسافروں کے قافلے پر عسکریت پسندوں کی فائرنگ، 38 افراد قتل
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد عدالت کے باہر موجود صحافیوں کو بتایا کہ کرم میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے واقعے میں 38 افراد مارے گئے ہیں۔پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں پاڑہ چنار سے پشاور جانے والے مسافروں کے قافلے پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں مرنے والے افراد کی تعداد 38 ہو گئی ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرم میں فائرنگ کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسافروں کے جس قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے اس میں 200 کے قریب گاڑیاں شامل تھیں۔بیرسٹر سیف کی جانب سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب اس واقعے میں 19 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور واقعے کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں۔اس سے قبل خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں پولیس نے نجی نیوزانڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ جمعرات کو پاڑہ چنار سے پشاور جانے والے مسافروں کے قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں 32 افراد جان سے گئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ لوئر کرم کے احمدی شمع پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا جہاں اوچت نامی علاقے میں پاڑہ چنار سے مسافر گاڑیوں کا قافلہ (سکیورٹی فورسز کی سکیورٹی میں جانے والی مسافر گاڑیاں) گزر رہی تھیں۔ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید محسود نے میڈیا کو بتایا کہ مسافر گاڑیوں کے قافلے پر عسکریت پسندوں کے حملے میں مجموعی طور پر 32 افراد جان سے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر جاوید محسود کے مطابق اس حملے میں مارے جانے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔


