کچھی، 2022 کے سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کا بحالی کیلئے وزیراعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
کوئٹہ(یو این اے ) بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع کچھی 2022 اور 2024 کی طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے متاثر ہونیکی وجہ سے مرکزی و صوبائی حکومت نے آفت زدہ قرار دیا تھا اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کے احکامات جاری کئیے گئے مگر ان احکامات کو ہوا میں اڑ دیا گیا اور آج بھی ضلع کچھی کے کئی گاں و دیہات انوسٹیکچر کی بحالی کے منتظر ہیں سرکاری محکموں اور این جی اوز کو سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کے لئیے فراہم کیا جانے والے فنڈز من پسندانہ علاقوں میں خرچہ کیا گیا اور کیا جارہا ہے ضلع کے شہروں اور دیہاتوں کو سیلاب اور طوفانی بارشوں نے مکمل تباہی مچا دی تھی جس سے عوام کے مال مویشی اور جمع پونجی سب بہہ گئی تھیں سیلاب سے لوگوں کا بڑا نقصان ہوا ہے آفت زدہ قرار دینے والا ضلع کچھی اب تک اسکی بحالی کے لئیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں ضلعے کی عوام کا دارومدار زراعت کے شعبے سے وابستگی ہے اور زراعت سے وابستہ لوگوں کی فصلات ان دو سیلاب سے مکمل تباہی ہوئی ہیں جن کا ازالہ اب تک ممکن نہیں ہو سکا ہے حکومتی امداد آٹے میں نمک کے برابر فراہم کی گئی کچھی کی تحصیلوں اور انکے گاں میں بجلی تعلیم اور صحت کے شعبے بھی متاثر ہوئے ہیں جنکو ہنگامی بنیادوں پر فعال بنانے کی ضرورت تھی ان پر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے غیر فعال پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے عوام کے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں کھلے آسمان تلے پڑے متاثرہ خاندان ہر بدلتے موسم میں بچے بوڑھے مرد خواتین مختلف وبائی امراض کا شکار ہو رہے ہیں ضلع کی عوام اس دور جدید میں آج بھی زندگی کی تمام ضروری بنیادی سہولتوں سے محروم تھے ہی مزید طوفانی بارشوں اور سیلاب نے مزید ان کی زندگیوں میں مشکلات بڑھا دی ہیں سرکاری محکمے اور این جی اوز نے من پسندانہ دیہاتوں شہروں میں اقدامات اٹھائے گئے اور اٹھائے جا رہے ہیں حکومتی سطح پر ضلع کچھی کو دو بار آفت زدہ قرار تو دیا گیا لیکن ضلعے میں ہونے والی تباہی کے لئیے اسکے انوسٹیچکر کی بحالی میں کوئی کام نہیں کئیے گئے ہیں گھروں کی بحالی کے لئیے ضلع کچھی میں کام کرنے والی این جی اوز کے ریکارڈز میں بہت بڑا حصہ ضلعی انتظامیہ کے برعکس ہے جس سے متاثرہ خاندانوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے لوگوں کے لاکھوں روپے کے نقصانات کے ازالے کے لئیے حکومت اور این جی اوز کو صاف شفاف اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے ضلع کچھی کے سیلاب متاثرین اور سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کے انوسٹیچکر کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں سرکاری محکموں کے ذمہ دار اور این جی اوز کے من پسندانہ کام کو روک کر اور نا اہل آفیسران کے خلاف صاف شفاف کمیٹی تشکیل دے کر متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کی جائے تا کہ جائز شہریوں کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے


