مون سون بارشوں کی تیاری پہلے سے کی گئی تھی،توقع سے زیادہ سیلابی صورتحال پیدا ہوئی،جام کمال

کوئٹہ؛ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان صوبے میں گورننس کی نظام کو بہتر بنا نے کے ساتھ ساتھ محکموں کی استعداد کار میں اضافہ کر رہی ہے، مون سون بارشوں کی تیاری پہلے سے کی گئی تھی جبکہ نصیر آباد، جھل مگسی، سبی، لسبیلہ میں توقع سے زیادہ بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیداہوئی، صوبے میں ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے پاک فوج صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر آپریشن میں حصہ لے رہی ہے،یہ بات انہوں نے اتوار کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ جام کما ل خان نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے مون سون بارشوں کے حوالے سے پیشگی حکمت عملی تیارکی تھی تاہم ملک بھر کی طرح نصیر آباد، جھل مگسی، سبی، لسبیلہ میں توقع سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں جسکی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی انہوں نے کہاکہ صوبے کے 7ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پی ڈی ایم اے کے دفاتر قائم ہیں جہاں ریلیف کا سامان بھجوا دیا گیا ہے، کوئٹہ سبی شاہراہ،مکران کوسٹل ہائی وے سمیت بندات، سڑکوں،پلوں کوپہنچنے والے نقصانات کی مرمت کر نے کے لئے محکمہ آبپاشی، مواصلات و تعمیرات سمیت ٹھیکیداروں کی مشینری استعمال کی جارہی ہے جھل مگسی اور سبی سمیت کچھ علاقوں میں سیلاب زیارہ ہونے کی وجہ سے رابطہ منقطع ہوا ان علاقوں میں 30سے 35کشتیاں ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ آپریشن میں صوبائی حکومت کو پاک فوج کی معاونت بھی حاصل ہے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے ایمرجنسی سینٹر، وزیراعلیٰ ڈیلیوری یونٹ، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز ملکر ریلیف کے کام کر رہے ہیں جہاں بھی جس چیز کی ضرورت ہے حکومت فراہم کر رہی ہے، انہوں نے کہ کہا کہ بلوچستان میں فصل لگانے کا موسم شروع ہونا تھا فصلوں کی کاشت مکمل ہونے کی وجہ سے کسی حدتک نقصانات کم ہوئے لیکن مال مویشی کے نقصانات ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ آج صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ بھی کرونگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام تک سوشل میڈیا، اخبارات سمیت دیگر ذرائع سے حکومتی کارکردگی کی معلومات پہنچائی جارہی ہیں صوبے میں گورننس کا نظام بہتر کیا جارہا ہے سسٹم کو بہتر بنا کر ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا گیا ہے جبکہ اداروں کو بہتر کرنے پر توجہ مرکوز ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں