صدر نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح 10 بجے طلب کر لیا۔صدر آصف زرداری نے آئین کے آرٹیکل 54 کی شق (ون) کے تحت حاصل کردہ اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعہ 24 جنوری 2025 کو صبح 10 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں طلب کیا ہے جبکہ مشترکہ اجلاس کے باعث سینیٹ اجلاس کا وقت تبدیل کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متعدد قوانین کی منظوری دی جائے گی، اجلاس میں دونوں ایوانوں سے رہ جانے والے بل منظور کیے جائیں گے جبکہ مشترکہ اجلاس بلانے کی سمری وزیراعظم نے بھجوائی تھی۔صدر مملکت کی طرف سے پارلیمنٹ کو بغیر توثیق واپس بھجوائے جانے والے بلوں کی تفصیلات آج نیوز نے حاصل کرلیں۔صدر مملکت کی طرف سے 29 بل واپس بھجوائے گئے، بغیر توثیق کے واپس بھجوائے گئے 21 بل سابقہ صدر ڈاکٹر عارف علوی جبکہ 8 بل صدر مملکت آصف علی زرداری کی طرف سے ہیں۔سابق صدرعارف علوی کی طرف سے 10 سرکاری بل بھی واپس بھیجے گئے، ان میں سے چند یا تمام بل بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور آئیں گے، یہ بل دونوں ایوانوں سے منطوری کے بعد توثیق کے لیے ایوان صدر گئے تھے، جہاں سے آئین کے آرٹیکل 75 (1) بی کے تحت واپس بھجوائے گئے، ان میں حکومتی اور نجی بل شامل ہیں۔کل جو بل زیر غور آسکتے ہیں، ان میں سرکاری بل دی ہائیر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل 2023، فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2023، فیڈرل اردو یونیورسٹی ترمیمی بل 2023، دی ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2023، دی این ایف سی انسٹیٹیوٹ آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان، دی نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آبادد ترمیمی بل 2023، دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ترمیمی بل 2023، دی نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ ترمیمی بل 2023، دی پریس نیوزپیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن ترمیمی بل کے علاوہ دی امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول ترمیمی بل 2023 شامل ہیں۔جو نجی بل ان میں شامل ہیں وہ نشہ آور مواد کے کنٹرول کا بل 2022، اسلام آباد لازمی ویکسینیشن و تحفظ ہیلتھ ورکرز بل 2022، دی ریگولیشن آف جنریشن ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبیوشن آف الیکٹرک پاور رترمیمی بل 2022، پاکستان کورئیر اینڈ لاجسٹکس ریگولیٹری اتھارٹی بل 2022، اسلام آباد کمیونٹی انٹیگریشن بل 2022، ہوریزن یونیورسٹی بل 2023، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجیز بل 20023، دی کوڈ آف کریمنل پروسیجر ترمیمی بل 2022، دی کوڈ آف کریمینل پروسیجر ترمیمی بل 2023، دی پروٹیکشن آف فیملی لائف اینڈ ویڈلاک بل 2023، نیشنل یونیورسٹی آف سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد بل 2023، نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ بل 2024، اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل2023، دی نیشنل انسٹیٹیوٍ آف ٹیکنالوجی بل 2023، میٹروپولیٹن انٹرنیشنل انسٹیٹئوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023، پاکستان انسٹیوٹ آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024 اور انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کلچر اینڈ ہیلتھ سائنسز بل 2024 شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں