امریکا نے پاکستان کے ایف 16 پروگرام کی مانیٹرنگ کیلئے 39 کروڑ ڈالر فنڈز جاری کردیے

ویب ڈیسک : ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان میں امریکی حمایت یافتہ پروگرام کے لیے 39 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جاری کر دیے، جس پر کانگریس کے ایک معاون نے بتایا کہ امریکی ساختہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کے استعمال کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جائیں نہ کہ حریف بھارت کے خلاف۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ اقدام منجمد غیر ملکی امداد میں 5.3 ارب ڈالر کی ریلیز کا حصہ تھے، جو زیادہ تر سیکیورٹی اور انسداد منشیات کے پروگراموں کے لیے ہیں۔پاکستان کے مخصوص دفاعی اور تجزیہ گروپ ’Quwa‘ کے مطابق فنڈز سے ٹیکنیکل سیکیورٹی ٹیم (ٹی ایس ٹی) کو سپورٹ ملے گی، یہ ملک میں موجود کنٹریکٹرز کا ایک دستہ ہے، جس کا کام سخت مانیٹرنگ اصولوں کے مطابق ’ایف-16‘ کے استعمال کی نگرانی کرنا ہے، جس کے تحت پاکستان ایئر فورس کو ایف-16 اور خاص طور پر نئے F-16C/DB-52 صرف انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔اس نے نوٹ کیا کہ یہ نگرانی ’نئی نہیں ہے‘ مزید کہا کہ ٹی ایس ٹی پاکستان میں 2019 میں بھی موجود ہے، جب امریکا نے پاکستان ایئر فورس ایف-16 بیڑے کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے امدادی پیکج کے ساتھ اس کی موجودہ تعیناتی کی منظوری دی۔تاہم، فارن پالیسی میگزین کی 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے ساتھ فائٹ میں ایف 16 کا استعمال اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا جس پر پاکستان نے امریکا سے طیارہ وصول کرتے وقت دستخط کیے تھے۔ممتاز امریکی میگزین نے 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان فائٹ کے دوران پاکستان کے ایف 16 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے بھارتی دعوے کی بھی تردید کی تھی۔فارن پالیسی نے 2 امریکی دفاعی اہلکاروں سے انٹرویو کیا تھا، جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان میں تمام ’ایف 16‘ طیارے موجود تھے۔عہدیداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے 27 فروری 2019 کو فائٹ کے دوران ایک ایف 16 لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا، تو پاکستان نے امریکا کو طیارے گننے کی دعوت دی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امداد کو منجمد کرنے کا حکم دیا تھا، رائٹرز نے 13 فروری تک منظور شدہ مزید 243 مستثنیات کی فہرست حاصل کی، جس کی کل مالیت 5 ارب 30 کروڑ ڈالر تھی۔جاری کردہ فنڈز کی اکثریت (4.1 ارب ڈالرز) امریکی محکمہ خارجہ کے سیاسی، فوجی امور کے بیورو کے زیر انتظام پروگراموں کے لیے ہے، جو دوسرے ممالک اور گروپوں کو ہتھیاروں کی فروخت اور فوجی امداد کی نگرانی کرتا ہے، دیگر فنڈز کا اجرا ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن اور امریکا میں غیر قانونی منشیات کے بہاؤ کو روکنے کی کوششوں سے متعلق ہے۔