جعفر ایکسپریس آپریشن پرافواج کی بہادری کو سلام جنہوں نے نہ صرف مغوی بازیاب کرائے بلکہ دہشتگردوں کا قلع قمع بھی کیا، بلاول
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے، ہم سب کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔کراچی میں سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ کیرئیر پورٹل اور ایپلی کیشن’ آئی ورک فور سندھ’ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت سے اپنی تقریر کا آغاز کرنا چاہتا ہوں، مسلح افواج کی شجاعت اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف مغوی بازیاب کرائے بلکہ دہشت گردوں کا قلع قمع بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ اتنے مشکل علاقے میں آپریشن بہت مشکل لگ رہا تھا، صوبائی حکومت اور مسلح افواج کے اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مذہبی دہشت گردی ہو یا مسلح دہشت گردی سب کی مذمت کی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو ایک سالہ کارکردگی پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، جس تفصیلات اور انداز کے ساتھ وزیراعلیٰ نے بریف کیا وہ قابل تعریف ہے، چیف ایگزیکٹو کو پتا ہونا چاہیے کہ اس کے صوبے میں کیا ہورہا ہے، میڈیا کو بھی یہ بتانا چاہیے ایسا وزیراعلیٰ ہے جو نہ صرف پرفارم کرتا ہے بلکہ اس کا وژن بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کل صوبائی اسمبلی نے پانی کے مسئلے پر ایک واضح پیغام دیا، کچھ لوگوں کو اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا یہ اچھی بات ہے، حقیقت میں یہ نیا مسئلہ نہیں ہے، وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی ٹیم ہر دور میں یہ مقدمہ لڑتے آرہے ہیں، اسلام آباد میں شکلیں تبدیل ہوئیں لیکن ہر حکومت میں یہی ایشو رہا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2 کینالز بنانی چاہیں تو جام خان شورو اور نثار کھوڑو نے ان کا مقابلہ کیا، شہباز حکومت میں جب بھی کوئی ایسا منصوبہ آیا تو وزیراعلیٰ صوبے کی آواز بنے، ہم مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتے، ہم سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل سیاسی انداز میں ہی نکل سکتا ہے، اس جدوجہد میں بھی سندھ کے عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے اس صوبے کے عوام کا سب سے بڑا مطالبہ روزگار کا رہا ہے، مطالبات اتنے ہیں کہ حکومت سندھ کے پاس انہیں پورا کرنے کی گنجائش نہیں ہے، صوبائی حکومت سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ وہ بروقت ملازمتیں نہیں دیتی۔انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے گھروں کا منصوبہ، خواتین کو بااختیار بنانے کا منصوبہ بھی بنا، ہم نے اس منصوبے کے ذریعے کئی لاکھ ملازمتیں بھی پیدا کیں، سندھ میں ایک طرف صوبائی حکومت ملازمتیں پیدا کرتی ہے، دوسری طرف نجی شعبہ ملازمتیں پیدا کرتا ہے۔


