چمن سے افغان شہریت کارڈ رکھنے والوں کی وطن واپسی جاری ہے، ضلعی انتظامیہ

ویب ڈیسک : ضلع چمن سے افغان شہریت کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی وطن واپسی جاری ہے۔ایک ضلعی عہدیدار کے مطابق چمن میں ہولڈنگ کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد کے ذریعے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا دوسرا مرحلہ آج (جمعرات) سے شروع ہوا ہے، کیونکہ افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) رکھنے والوں کے لیے حکومت کی جانب سے ملک چھوڑنے کے لیے مقرر کردہ 31 مارچ کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی تھی۔تاہم، افغان کمشنریٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ہدایات کے مطابق عید الفطر کی وجہ سے وطن واپسی میں تاخیر ہوئی ہے۔ڈپٹی کمشنر ضلع چمن حبیب احمد بنگلزئی نے جمعرات کو ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ اے سی سی رکھنے والوں کی واپسی 2 اپریل (بدھ) کو شروع ہوئی تھی، انہوں نے مزید بتایا کہ افغان سرحد کے ساتھ ہولڈنگ کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جن میں جمال ناصر فٹ بال اسٹیڈیم میں قائم کیا گیا ایک کیمپ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ چمن کی ضلعی انتظامیہ نے عید الفطر سے قبل انتظامات مکمل کر لیے تھے، جس کے لیے باب دوستی سرحدی کراسنگ پوائنٹ پر ایل پی جی ٹرمینل پر ایک ڈیٹا بیس کیمپ قائم کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس کیمپ میں نہ صرف ڈیٹا ٹرانزٹ انٹری ہوگی بلکہ اگر سرحدی گیٹ بند ہوجاتا ہے تو افغان خاندانوں کو بھی یہیں رکھا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے مزید کہا کہ نادرا کے ذریعے باب دوستی کیمپ میں افغان شہریوں کی بایو میٹرک تصدیق کی جائے گی اور پروسیسنگ کے دوران پیچھے رہ جانے والے افغان خاندانوں کو رہائش اور خوراک فراہم کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ چمن ضلع میں 3500 سے زائد خاندان رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے دو خاندان رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے ہیں، لیویز نے کارروائی کرتے ہوئے آٹھ دیگر خاندانوں کو ہولڈنگ کیمپوں میں منتقل کر دیا ہے، نادرا میں ڈیٹا کے اندراج اور دیگر کارروائیوں کے بعد، انہیں سرحد پار ان کے وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔حبیب احمد بنگلزئی نے ڈان ڈاٹ کام کو یہ بھی بتایا کہ بلوچستان کے دیگر علاقوں کے ڈی سیز نے بھی افغانوں کی وطن واپسی مہم کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے کیونکہ چمن دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع سے آنے والے افغان خاندانوں کا ڈیٹا چمن میں دوبارہ درج کیا جائے گا، جس کے بعد انہیں سرحد پار بھیجا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں